جگن موہن ریڈی کے دور حکومت میں اقلیتیں ترقی سے محروم : چندرابابو نائیڈو

   


43 مسلمانوں پر حملے ، مسلمانوں کی ترقی کی ذمہ داری وہ قبول کرتے ہیں
حیدرآباد 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے قومی سربراہ سابق چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں آندھراپردیش میں اقلیتوں پر مظالم میں اضافہ ہوجانے اور ترقیاتی و فلاحی اسکیمات سے مسلمانوں کو محروم رکھنے کا الزام عائد کیا۔ ضلع گنٹور کے اپننور میں اقلیتوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چندرابابو نائیڈو نے کہاکہ تلگودیشم کے دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے متعارف کردہ تمام فلاحی اسکیمات کو ختم کردیا ہے۔ جگن موہن ریڈی نے اقلیتوں سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرنے میں وہ پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ تلگودیشم کے دور حکومت میں اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے ودیا دیونا، دولہن، رمضان تحفہ، دوکان مکان جیسی کئی اسکیمات کو متعارف کرایا گیا تھا جس کو وائی ایس آر کانگریس پارٹی حکومت نے فراموش کردیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ تلگودیشم کی دوبارہ حکومت قائم ہونے کے بعد ان تمام اسکیمات کو بحال کیا جائے گا اور مزید نئی اسکیمات متعارف کرائی جائیں گی۔ چندرابابو نائیڈو نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر سیاست کا حصہ بننے کا مشورہ دیا۔ تلگودیشم میں شامل ہونے پر کامیابی حاصل کرنے کا اثر و رسوخ رکھنے والے مسلم قائدین کو تلگودیشم پارٹی ٹکٹ فراہم کرے گی۔ کامیابی کے لئے ساری ذمہ داری قبول کرے گی اور وزارت میں بھی اہمیت دی جائے گی۔ وہ وعدہ کرتے ہیں، مسلمانوں کی ترقی ان کی ذمہ داری ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے وزراء اور حکومت کے مشیر دسویں کامیاب نہیں ہیں مگر دلہن اسکیم پر عمل آوری کے لئے دسویں جماعت تک لڑکی کی تعلیم کی شرط رکھی گئی ہے۔ جگن موہن ریڈی کے دور حکومت میں تاحال 43 مسلمانوں پر حملے کئے گئے، وقف جائیدادوں پر بڑے پیمانے پر قبضے کئے جارہے ہیں۔ ن