مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر چیف منسٹر کے سی آر کی کارروائی
حیدرآباد ۔ 10اپریل ( سیاست نیوز) سربراہ بی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سابق وزیر جے کرشنا راؤ اور کھمم کے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی کو پارٹی سے معطل کردیا ہے ۔ ان دونوں ناراض قائدین نے اپنے حامیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کے سی آر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ ایک سال قبل سے ہی سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے تھے ۔ پہلے تو انہیں لوک سبھا ٹکٹ سے محروم کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں راجیہ سبھا اور کونسل کا رکن نہ بنانے پر ان کی ناراضگی میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ کھلے عام وہ پارٹی قیادت اورح کومت پر تنقیدیں کررہے تھے ۔ دوسری جانب جے کرشنا راؤ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے امیدوار ہرش وردھن کے خلاف شکست سے دوچار ہوگئے تھے جس کے بعد کانگریس کے رکن اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد سے جے کرشنا راؤ ناراض ہوگئے تھے اور دونوں کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی تھی ۔ کے ٹی آر نے انہیں منانے ان کے گھر بھی پہنچے تھے تاہم چیف منسٹر کے سی آر نے تمام موجود ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ناراض سابق وزیر جے کرشنا راؤ مخالف پارٹی سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے تھے ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے ان دونوں قائدین کو پارٹی سے معطل کردیا ہے جس پر سابق وزیر جے کرشنا راؤ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجرے کی قید سے آزاد ہونے پر پرندہ جس طرح خوش ہوتا ہے وہ بھی اس طرح کی خوشی محسوس کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی خاطر وزارت کی قربانی دیتھی ۔ میری شکست کیلئے حکومت کے اہم قائدین ذمہ دار تھے ۔ وجہ بتائے بغیر مجھے پارٹی سے معطل کیا گیا ہے ۔ سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی نے انہیں پارٹیسے معطل کرنے پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا ،انہیں زبردستی بی آر ایس میں شامل کیا گیا تھا بعد میں رسوا کر کے پارٹی سے معطل کیا گیا ہے ۔ ن