بلا تحقیق ملازم رکھنا سلامتی کے خطرات پیدا کرسکتا ہے ۔ باقاعدہ نگرانی نظام سے خطرات میں کمی ہوسکتی ہے
ایس ایم بلال
حیدرآباد 10 مئی : سینئر آئی پی ایس عہدیدار ونئے رنجن رے کی اہلیہ تنوجہ رے کے قتل نے حیدرآباد میں گھریلو ملازمین خاص طور پر غیر مقامی مزدوروں کی توثیق کیلئے ایک مضبوط نظام کی فوری ضرورت کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے ۔ اس واقعہ نے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فلاحی اسوسی ایشنوں میں تشویش پیدا کردی ہے ۔ شہر کے کئی علاقوں میں گھریلو ملازمین کی پولیس توثیق لازمی نہیں ہے ۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ پس منظر کی جانچ میں خامی اور غیرمنظم طور پر ملازم رکھنا گھرانوں کیلئے سلامتی کے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شہر میں گھریلو ملازمین کی بڑی تعداد مخلص اور محنتی ہے لیکن مناسب دستاویزات اور عدم توثیق مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا مشکل بنادیتی ہے۔ حالیہ برسوں میں نیپال اور دیگر علاقوں سے آئے گھریلو ملازمین سے منسلک چوری، ڈکیتی ، تشدد اور جرائم کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ایک ایسے ہی کیس میں، جو پہلے درج ہوا تھا، بنجارہ ہلز میں ایک رہائش گاہ سے قیمتی سامان چوری کرنے کے بعد ایک نیپالی ملازم فرار ہوگیاتھا۔ دوسرے واقعہ میں پولیس نے سکندر آباد اور حیدرآباد کے بعض علاقوں میں طلائی زیورات کی رہزنی اور ڈکیتی کے واقعات میں ملوث نیپالی شہریوں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا تھا ۔ پاش علاقوں چوری کے بعد گھریلو ملازمین کے غائب ہونے کی بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جس سے مناسب شناخت کے ریکارڈس کی کمی کی وجہ سے تفتیش مشکل ہو جاتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کی نشاندہی ہے کہ بہت سے خاندان باورچی اور دیگر کاموں کیلئے بغیر پولیس توثیق ملازمت پر رکھ لیتے ہیں۔ کئی واقعات میںملازمین کو غیر رجسٹرڈ ایجنٹوں کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے جو کوئی رسمی ریکارڈ برقرار نہیں رکھتے۔سینئر پولیس عہدیداران نے بارہا شہریوں کو مشورہ دیا کہ گھریلو ملازمین، ڈرائیوروں اور سیکیورٹی گارڈس کی تفصیلات مقامی پولیس اسٹیشنوں میں جمع کروائیں تاکہ اُن پر نظر رکھی جاسکے۔ تاہم مسلسل مشوروں کے باوجود عمل آوری نہیں کی جاتی۔ رہائشیوں کی فلاحی اسوسی ایشنس اب گھریلو ملازمین کا ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹابیس اور شہر میں کام کرنے والی پلیسمنٹ ایجنسیوں پر سخت قوانین کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لازمی توثیق، بائیومیٹرک رجسٹریشن اور باقاعدہ نگرانی خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے اور جرائم کی صورت میں پولیس کو فوری جواب دینے میں مدد دے سکتی ہے۔ ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار کی بیوی کے قتل کے کیس نے شہری گھرانوں کی سلامتی اور نامعلوم ملازمین کو بغیر مناسب جانچ کے رکھنے والے خاندانوں کے تساہل پر بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ تفتیش جاری ہے اور تمام زاویوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ حکام اور شہریوں دونوں کے لئے حیدرآباد میں گھریلو عملے کی بھرتی کے دوران مضبوط حفاظتی اقدامات اپنانے حکمت عملی ضروری ہے۔اِسی طرح سٹی پولیس میں بیرونی شہریوں بالخصوص پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کیلئے اسپیشل برانچ میں خصوصی سیل موجود ہے اور مذکورہ ممالک کے شہریوں کی آمد پر اُن کا یہاں رجسٹریشن کیا جاتا ہے۔ اِسی طرز پر نیپال اور دیگر ممالک کے شہریوں کا ریکارڈ بھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ آئے دن نیپالی باشندے جو گھریلو ملازمین کے طور پر کام کررہے ہیں، سنگین وارداتوں میں ملوث پائے گئے۔V