حسین ساگر سے ’اُڑان‘ پرکاشم بیارج پر لینڈنگ ، سمندری طیارے کی تجویز

   

دونوں ریاستوں کے درمیان خدمات کا منصوبہ ، ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کی ٹیم نے ٹینک بنڈ کا معائنہ کیا
حیدرآباد : 12 اکٹوبر ( سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے درمیان سیاحت اور حمل و نقل کو ایک منفرد اور یادگار بلندی دینے کیلئے انقلابی منصوبہ بندی اپنے آخری اور اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ حیدرآباد کے تاریخی حسین ساگر کے پانی سے ’’ سی پلین ‘‘ سمندری طیارہ میں اُڑان بھرکر وجئے واڑہ کے پرکاشم بیاریج پر اترنے کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں تیز رفتاری سے کام کررہی ہیں ۔ حیدرآباد سے وجئے واڑہ کے درمیان سڑک ، ریل اور روایتی ہوائی راستے پہلے سے موجود ہیں لیکن پانی اور آسمان کے اس سنگم پر مبنی سی پلین سرویس شہریوں اور غیر ملکی سیاحوں کیلئے ایک بالکل نیا اور سنسنی خیز تجربہ ثابت ہوگا ۔تلنگانہ کانگریس حکومت کی نئی سیاحتی پالیسی کے تحت ریاست میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور سیاحت کو راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ رواں سال جولائی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنے دورہ دہلی کے دوران مرکزی وزیر شہری ہوا بازی کے رام موہن نائیڈو سے ملاقات کی تھی جس میں حسین ساگر اور پرکاشم بیاریج کے درمیان سمندری طیارہ سرویس شروع کرنے کی تجویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا ۔ مرکزی وزارت ہوا بازی کی ہدایت پر ایئرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا ریاستی محکمہ سیاحت اور حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی مشترکہ ٹیم نے حسین ساگر کا مکمل معائنہ کرلیا ہے ۔ سروے کے دوران تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جس میں حسین ساگر میں واٹر باڈی کا کونسا حصہ طیارہ کے اترنے اور پرواز بھرن کیلئے سب سے زیادہ محفوظ ہے ۔جھیل میں واٹر ٹیکسیوے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ۔ مسافرین کی آمد و رفت ، ویٹنگ لاؤنچ اور بورڈنگ کیلئے جٹی اور پائیدار ٹرمنل سہولیات کہاں قائم کی جاسکتی ہیں ۔ (AAI) ماہرین کی ٹیم جلد ہی تمام سائنسی و تکنیکی ڈیٹا پر مبنی جامع رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرنے والی ہے جس کی منظوری کے بعد پائلٹ پراجکٹ اور ٹرمنل کی تعمیر کا کام شروع ہوگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرویس نہ صرف حمل و نقل کی دنیا میں ایک انقلابی پیشرفت ثابت ہوگی بلکہ اس سے دونوں ریاستوں کے درمیان مذہبی اور تاریخی سیاحت کو زبردست فروغ ملے گا ۔2