سلام کو عام کرنے کی تلقین ، مولانا جعفر پاشاہ ، مولانا ومیض ندوی و دیگر کا خطاب
کریم نگر ۔26 مئی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مکتب فیض عاقل کشمیر گڈہ،کریم نگر کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ عام بعنوان ’’سیرت حضرت ابراہیم ؑ اور مکاتب کی اہمیت ‘‘ کا انعقاد 25 مئی بروز پیر ،بعد نماز مغرب آئی،بی،اے گارڈن کشمیر گڈہ،کریم نگر میں ہوا۔ جلسہ کی صدارات مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ (امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ) نے فرمائی اور حافظ محمد معظم حسین فیضی نے نگرانی فرمائی۔مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا سید احمد ومیض ندوی نقشبندی (استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد) اور مولانا عمر فاروق قاسمی نقشبندی نے شرکت کی اور خطاب فرمایا۔مولانا سید احمد ومیض ندوی نے کہا کہ حضرت ابراہیم ؑکی حیاتِ مبارکہ میں اُمت کیلئے بنادی طور پر چار عظیم اسباق ہیں۔اسلامی تاریخ میں حضرت ابراہیم ؑکی ذاتِ گرامی ایمان، وفاداری اور کامل اطاعتِ الٰہی کی اعلی مثال ہے۔ آپؑ کی پوری زندگی انسانیت کیلئے ہدایت کا چراغ ہے۔مولانا محمد عمر فاروق قاسمی نے کہا کہ اولاد کی دینی تربیت والدین کی اہم ترین ذمہ داری ہے اور دینی تعلیم کا حصول مکاتب کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سلام کی اسلام میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ سلام اسلام کا شعار ہے۔ ایک مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کو سلام کرکے اس سے دلی محبت کا اظہار کرتا ہے۔سلام کرنا سنت اور اس کا جواب دینا واجب ہے۔مسلمان اگر خیر و بھلائی چاہتے ہیں تو انہیں سلام کا التزام کرنا ضروری ہے۔مولانا نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قربانی خوش دلی کے ساتھ کی جانی چاہئے نہ کہ بوجھ سمجھ کر اور قربانی صرف جانور کے گلے پر چھری پھیرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے جذبات کو خدا تعالی کے احکامات اور سرکار کی سنتوں کے آگے قربان کردینے کا نام ہے۔حافظ محمد وسیم الدین (ذمہ مکتب فیض عاقل) نے اجلاس کی کاروائی چلائی۔سمر کلاسس میں شامل طلباء و طالبات نے تعلیمی مظاہرہ پیش کیا اور انہیں انعامات دیئے گئے ۔مولانا معزالدین قاسمی ،مفتی محمد یونس القاسمی ،مولانا کاظم الحسنی ،مفتی محمد صادق حسین قاسمی ،حافظ عبدالرزاق ،مفتی عبدالحمید قاسمی ،حافظ سید رضوان فلاحی ،مولانا ولی اللہ مفکر حسامی ،مولانا آصف الدین دبیر حسامی ،مفتی شعیب علی قاسمی ،مفتی انصارالحق قاسمی ،مفتی شاداب تقی قاسمی،مولانا حیدر اسعدی ،مفتی خواجہ غفران الدین اسعدی صاحب،مولانا عابد خلیل حسامی ،حافظ فرید الدین امجد ،حافظ خواجہ ابرار کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء ،حفاظ اور لوگ موجود تھے۔