حوثی دہشت گرد، یمن کابینہ میں قرارداد منظور

   

عدن، 12 اکتوبر (عرب نیوز) یمن کی کابینہ نے حوثی گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس کی سرگرمیوں و مالی معاونت کو جرم بنانے سے متعلق مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعظم شریف محسن الزندانی کی صدارت میں عدن میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں اس قانون کی منظوری کے بعد متعلقہ حکام کو آئینی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ فیصلہ عدن انٹرنیشنل ایرپورٹ اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ یمنی حکومت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری ایرپورٹس کو نشانہ بنانے سے مسافروں،ایرپورٹ کے عملے اور فضائی عملے کی جان کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔کابینہ نے عدن انٹرنیشنل ایرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کو شہری ہوا بازی کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حکومت کے مطابق حملے کے بعد قاہرہ سے جدہ جانے والی یمنیہ ایرویزکی پرواز کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ حکام کو واقعہ سے متعلق شواہد جمع کرنے اور معاملہ متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔یمنی کابینہ نے سعودی عرب، بالخصوص ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر حوثی حملوں کی بھی مذمت کی اور سعودی قیادت، حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ حملوں کے ذمہ داروں اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے والوں کے خلاف جواب دہی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں ملک کی دفاعی اور سکیورٹی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے ذباب اور باب المندب کے اطراف حکومتی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائیوں اور پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے سکیورٹی اداروں کو چوکس رہنے اور شہریوں و سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی۔یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ریاستی خودمختاری بحال کرنا اور حوثی گروپ کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔مسودہ قانون کی منظوری کے باوجود اسے نافذ کرنے کے لیے آئینی اور قانونی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔