بی آر ایس کے حلقوں میں خاموشی ، بی جے پی‘ کا کارپوریٹرس سے ربط ‘ مجلس کو کانگریس کی تائید ممکن
حیدرآباد۔/17 اپریل، ( سیاست نیوز) حیدرآباد مجالس مقامی اداروں کے کونسل انتخاب کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ عددی طاقت نہ ہونے کے باوجود انتخابی میدان میں قسمت آزمانے والی بی جے پی ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کررہی ہے۔ سب سے زیادہ ووٹ رکھنے والی مجلس کامیابی کا دعویٰ کررہی ہے۔ مقابلہ سے دور حکمران کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس نے تاحال اپنی تائید کس کو ہے اس کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ بی جے پی کے امیدوار این گوتم چند بی آر ایس اور کانگریس کارپوریٹرس سے خفیہ ملاقاتیں اور ٹیلی فون پر بات کرکے اپنے لئے ووٹ طلب کررہے ہیں۔ بی جے پی قائدین کے بی آر ایس کارپوریٹرس سے رابطہ کا بھی علم ہوا ہے۔ بالخصوص اسمبلی حلقوں عنبرپیٹ، خیریت آباد، سکندرآباد میں بی جے پی قائدین بی آر ایس کارپورٹرس سے نہ صرف رابطہ میں ہیں بلکہ خفیہ ملاقاتیں بھی کررہے ہیں۔ ان رابطوں میں چند کانگریس کارپوریٹرس بھی ہیں۔ بی آر ایس کارپوریٹرس یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ایم ایل سی انتخاب کیلئے انہیں پارٹی کی قیادت یا قائدین سے کوئی احکام نہیں ملے ہیں۔ رائے دہی میں حصہ لینے پر چند کارپوریٹرس تذبذب کا شکار ہیں تو چند کارپوریٹرس ووٹ ڈالنے بے تاب ہیں۔ ایک بی آر ایس قائد نے کہا کہ سرکاری طور پر بی آر ایس کسی کی تائید کا امکان نہیں ہے کیونکہ پارٹی قائدین نے ابھی تک کارپوریٹرس کا اجلاس طلب نہیں کیا ہے۔ کانگریس ‘مجلس کی تائید کرسکتی ہے۔ مقامی اداروں کے ایم ایل سی انتخاب کیلئے جملہ 112 ووٹ ہیں ان میں مجلس کے 50، بی جے پی کے 24، بی آر ایس کے 24 ، کانگریس کے 14 ووٹ شامل ہیں۔ 23 اپریل کو رائے دہی اور 25 اپریل کو ووٹوں کی گنتی مقرر ہے۔2