مجسمہ رامانجیہ کو اہمیت، تاریخی شہر کی تہذیب کو مسخ کرنے اور گمراہ کن پروپگنڈہ کا فروغ
حیدرآباد۔3جولائی (سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی عاملہ کا اجلاس شہر حیدرآباد میں منعقد ہوا لیکن اس اجلاس میں شہر حیدرآباد کی شناخت چارمینار کو اجلاس کے مقام پرکوئی مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہی بلکہ بی جے پی کے قومی عاملہ اجلاس کے شہ نشین پر نصب کئے گئے بیانر پر چارمینار یا کوئی ایسی تاریخی جگہ کی تصویر موجود نہیں تھی جس سے حیدرآباد کی شناخت ہوتی ہے لیکن اس کی جگہ حالیہ عرصہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے چنا جیئر سوامی کے آشرم میں نصب راما نجیہ کے مجسمہ کو انتہائی اہمیت کے ساتھ جگہ دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بیانر پر کاکتیہ کمان کے ساتھ نندی کی مورتی کی تصویر رکھی لیکن چارمینار نہیں رکھا گیا۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کی قومی عاملہ کے اجلاس کے دوران چارمینار کی تصویر صرف اجلاس کے مقام پر لگائی گئی ’’گولکنڈہ تصویری ‘‘ نمائش میں رکھی گئی اور اس میں بھی تاریخی عمارت سے متصل غیر قانونی ڈھانچہ جسے بھاگیہ لکشمی مندر کہا جاتا ہے اس کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے رکھا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی اجلاس کے دوران تصویری نمائش میں رضاکاروں کی تصاویر ان کے مظالم کی تصاویر کے طور پر پیش کی گئی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قومی اجلاس کے ذریعہ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شہر حیدرآباد کی تہذیب کو مسخ کرنے کے علاوہ گمراہ کن پروپگنڈے کو فروغ دینے کے اقدامات کئے ہیں۔شہر حیدرآباد میں بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچنے والے کئی مندوبین نے چارمینار پہنچ کر تصویر کشی کی اور تاریخی چارمینار سے متصل ڈھانچہ میں پوجا کی لیکن شہر حیدرآباد کی شناخت تصور کی جانے والی اس تاریخی عمارت کو نظرانداز کیا گیاہے۔م