محکمہ تعلیم کے احکامات جاری۔ قواعد کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا انتباہ
حیدرآباد 7 اگست (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں خانگی اسکولس کی جانب سے کی جانے والی من مانی فیسوں کی وصولی اور لوٹ مار پر محکمہ تعلیم نے سخت قدم اُٹھایا ہے۔ ریاست بھر کے پرائیوٹ اسکولس کے فیس نظام کو شفاف بنانے کے لئے سخت احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ ریاست کے تمام خانگی اسکولس کو اپنے تعلیمی پورٹل پر کلاسیس کی بنیاد پر فیس کی مکمل تفصیلات اور فیس کا شیڈول فوری طور پر اپ لوڈ کرنا ہوگا۔ جو اسکولس اپنے فیس کا شیڈول ظاہر نہیں کریں گے یا پورٹل پر ڈسپلے نہیں کریں گے ان کے خلاف محکمہ تعلیم وجہ نمائی نوٹس جاری کرے گا۔ قواعد و ضوابط پر عمل نہ کرنے والے اور والدین سے من مانی فیس وصول کرنے والے اسکولس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ریاست میں فی الوقت پرائیوٹ اسکولس مینجمنٹس کی جانب سے اپنی مرضی کے مطابق فیس وصول کرنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ ایل کے جی اور یو کے جی جیسے پری پرائمری بچوں کی سالانہ فیس 30 ہزار روپئے سے لے کر ایک لاکھ روپئے تک وصول کی جارہی ہے۔ اسکولس کی بھاری فیس کے ساتھ ساتھ اسکول انتظامیہ والدین پر شرط لگارہی ہے کہ وہ کتابیں، نوٹ بکس اور یونیفارم بھی لازمی طور پر اسکول یا ان کے مقررہ تاجروں سے ہی خریدیں۔ ان اشیاء کے نام پر بھی ہزاروں روپئے الگ سے وصول کئے جارہے ہیں۔ اسکول انتظامیہ کی اس کھلی من مانی پر والدین میں شدید غصہ پایا جارہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ خانگی اسکولس کی یہ لوٹ مار متوسط اور غریب خاندانوں کی کمر توڑ رہی ہے۔ والدین نے حکومت اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیاکہ صرف احکامات جاری کرنے کے بجائے ٹاملناڈو ریاست کی طرز پر فیس کنٹرول ایکٹ نافذ کیا جائے تاکہ خانگی اسکولس کی فیس کی ایک حد مقرر کی جاسکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کے اس نئے حکمنامے اور نوٹس سے خانگی اسکولس کی داداگری پر لگام لگتی ہے یا نہیں۔V/2