کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انساں ہوں کوئی پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
قومی دارالحکومت دہلی میںکل ہفتہ 10 اکٹوبر سے سی جے پی کی جانب سے احتجاج شروع ہونے والا ہے ۔ سی جے پی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر کے عمل کو برخواست کرنے کے مطالبہ پر اس احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے ۔ کئی طلباء تنظیموں ‘ سماجی جہد کاروں اور سیول سوسائیٹی تنظیموں کی جانب سے اس احتجاج کی تائید کا اعلان کیا گیا ہے ۔ کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس کی حمایت کی جا رہی ہے ۔ کسان بھی اس کے حمایتی بن گئے ہیں۔ وکلاء برادری بھی اس کے حق میں آگے آئی ہے ۔ ملک کے نوجوانوںمیں اس احتجاج کے تعلق سے کافی جوش و جذبہ پایا جاتا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ توقع سے زیادہ لوگ اس احتجاج میںشرکت کیلئے دہلی پہونچ سکتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے سکیوریٹی کے جو انتظامات کئے گئے ہیں وہ ایسا لگتا ہے کہ سارے شہر دہلی کو قلعہ میں بدل چکے ہیں۔ اس طرح کے انتظامات غیر معلنہ ایمرجنسی کی حالت کو بیان کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دہلی میٹرو کے تمام 57 اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ دوسرے شہروں سے آنے والی ایکسپریس ٹرینوں کو منسوخ کیا جا رہا ہے یا ان کا رخ موڑا جا رہا ہے ۔ آمد و رفت کو انتہائی مشکل کردیا گیا ہے ۔ بے شمار مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ جنتر منتر جانے والے راستوں پر اب پرندہ بھی پر مارنا مشکل ہوگیا ہے ۔ جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جا رہے ہیں۔ نفاذ قانون کی تقریبا تمام ایجنسیوں کو متعین کردیا گیا ہے ۔ سی آئی ایس ایف سے لے کر بی ایس تک ‘ سی آر پی ایف سے لے کر دہلی پولیس تک سبھی کے ہزاروں جوان سارے شہر میں متعین کردئے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ایک طرح کی غیر معلنہ ایمرجنسی جیسے دکھائی دے رہے ہیں اور حکومت کسی بھی قیمت پر اس احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے ۔ سی جے پی کی جانب سے پہلے ہی احتجاج کی اطلاع پولیس کو دیدی گئی ہے تاہم اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے ۔
جس طرح کے اقدامات دہلی پولیس کی جانب سے کئے جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مرکزی حکومت اس احتجاج سے خوفزدہ ہوگئی ہے ۔ وہ کئی طرح کے اندیشوں میں مبتلا دکھائی دے رہی ہے ۔ حکومت کو سابق میں سی جے پی کی جانب سے کئے گئے احتجاج کا تلخ تجربہ ہے ۔ جب سی جے پی نے احتجاج شروع کیا تھا تو حکومت نے اس کو اہمیت دینے سے انکار کردیا تھا اور احتجاجیوں کو بیٹھے رہنے کا موقع دیا گیا تھا ۔ اسی احتجاج کے نتیجہ میں حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے اور دھرمیندر پردھان مرکزی کابینہ سے مستعفی ہوگئے تھے ۔ اب جبکہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف یہ مظاہرہ شرو ع ہونے والا ہے تو حکومت خوف کا شکار ہوگئی ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات نے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ گیانیش کمار کے استعفے سے کم کسی بات کو قبول نہیں کریں گے اور ایس آئی آر کے عمل کو روکا جائے تو حکومت اب ایسا لگتا ہے کہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی ۔ حکومت کو شائد یہ اندیشے لاحق ہوں کہ انتخابی عمل میں جو کچھ بھی دھاندلیاں ہوئی ہیں وہ عوام کے سامنے کھل کر آجائیں گی اور کئی راز فاش ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت احتجاج کو کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتی ہے اور سارے شہر دہلی کو ایک پولیس چھاؤنی اور قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ محض ایک شخص گیانیش کمار کو بچانے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ تاہم گیانیش کمار صرف ظاہری چہرہ ہیں اور پس پردہ کئی چہرے بھی ہوسکتے ہیں۔
دارالحکومت دہلی میں فی الحال جو صورتحال ہے اسے اضطراب آمیز سکون کہا جاسکتا ہے اور جب احتجاجی واقعی دہلی کی سڑکوں پر آئیں گے اور جنتر منتر پہونچنے کی کوشش کریں گے تو سکیوریٹی عملہ کا کیا ردعمل ہوگا یہ کہا نہیں جاسکتا ۔ تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جہاں حکومت نے اپنی تیاریاں کرلی ہیں وہیں احتجاجیوں نے بھی حوصلے بلند کرلئے ہیں وہ پورے مصمم ارادوں کے ساتھ احتجاج شروع کرنے کے فیصلے پر اٹل ہیں۔ خود دہلی کے عوام میں اس صورتحال کی وجہ سے کئی اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں۔