دودھ، دہی ، گیہوں، چاول پر جی ایس ٹی نافذ ، کے ٹی آر کی برہمی

   

جملہ ، جھوٹ ، فرضی خبرو ں پر جی ایس ٹی نافذ ہوتا تو ملک کی معیشت 10ٹریلین ہوجاتی ، طنزیہ ٹوئٹ

حیدرآباد : 18جولائی ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے ملک میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی غذائی اشیاء دودھ ، دہی ،چاول پر جی ایس ٹی میں اضافہ کردینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے استفسار کیا کہ ان اشیاء پر جی ایس ٹی میں کیوں اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس کا آپ کے پاس کوئی جواب ہے کیا ؟ اس ملک کیلئے آپ کی ترجیحات کیا ہے ، جی ایس ٹی سے دو سال تک استثنی رہنے والے گیہوں ، چاول ، دہی ، لسی ، چھانچ کو اب کیوں ٹیکس کے دائرے میں شامل کیا جارہا ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے کا وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے ٹیوٹ کیا ۔ کے ٹی آر نے وزیراعظم سے دریافت کیا کہ ان کی ترجیحات کیا ہے ، آپ کی قیادت میں مہنگائی 30سال کی بلند ترین سطح پرپہنچ گئی ہے اور سارا ملک اس کا شکار ہوچکا ہے ۔ اب ملک کی اہم ترین غذائی اشیاء جیسے دودھ ، دہی اور چاول پر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ قیمتوں میں کیوں اضافہ کیا گیا ، آپ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے ، سوال کر تے ہوئے پہلے ٹیوٹ کیا ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے گیہو ، چاول ، دہی ، لسی ، چھانچ پر حکومت 5فیصد جی ایس ٹی وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔دو سال قبل ان اشیاء کو جی ایس ٹی سے استثنی دینے کا وزیراعظم نریندر مودی نے جو اعلان کیا تھا اس کا ویڈیو بھی کے ٹی آر نے ٹیوٹر پر پیش کیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے طنزیہ ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ جملہ ، جھوٹ اور فرضی خبروں پر جی ایس ٹی عائد کیا جاتا تو ملک کی معیشت 10ٹریلین ڈالر ہوجاتی ۔ ساتھ ہی جملہ نربھر بھارت کے ہائیش ٹیگ سے ایک اور ٹیوٹ کرتے ہوئے مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ن