دھرمیندر پردھان کا دور اقتدار ناکامی اور بدعنوانی کا ایک طویل سلسلہ

   

وزیر تعلیم بے حس ، نااہل اور عادتاً جھوٹ بولنے والے شخص ہیں ، کانگریس قائد جے رام رمیش کا بیان

نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان پر الزام لگایا ہے کہ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کسی ایک موضوع پر مبنی نہیں ہے ، بلکہ وزارتِ تعلیم میں ان کے دورِ اقتدار میں سامنے آئی ناکامیوں اور مبینہ بدعنوانی کے لمبے سلسلے کی وجہ سے کیا جا رہا ہے ۔کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے چہارشنبہ کو یہاں ایک بیان میں پردھان پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بے حس، نا اہل اورعادتاً جھوٹ بولنے والے شخص ہیں۔ کروڑوں طلبہ کی امنگوں کو گہرا صدمہ پہنچانے کے باوجود پردھان استعفیٰ دینے سے انکار کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا تکبر ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پردھان کے دورِ اقتدار میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) مسلسل ناکام رہی۔ سال 2024 میں کئی امتحانات کے پیپر لیک اور امتحان منسوخ ہونے کے واقعات ہوئے نیز 2026 میں نیٹ-یو جی اور یو جی سی-نیٹ سوشیولوجی کے امتحان کے پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ۔ ان کا الزام ہے کہ مسٹر پردھان نے سرکاری طور پر پیپر لیک سے انکار کیا اور پارلیمنٹ کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو قبول نہیں کیا۔رمیش نے کہا کہ سی بی ایس ای کی کلاس 12 کی آن اسکرین مارکنگ سسٹم (او ایس ایم) کی خریداری میں بے ضابطگیاں ہوئیں، لیکن انکوائری کمیشن کی رپورٹ اب تک عام نہیں کی گئی۔ مرکزی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیاں سیاسی وفاداری کی بنیاد پر کی گئیں اور کئی یونیورسٹیوں میں بدعنوانی اور آمِرانہ رویے کے الزامات لگے ۔ وزارت کے دیگر خود مختار اداروں، جن میں نیک ، ٹس اور آئی سی ایچ آر شامل ہیں، میں بھی بدعنوانی کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوری تصویر کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور وزیرِ تعلیم کے طور پر مسٹر پردھان کے دورِ اقتدار کی پوری تفصیلات جلد ہی ملک کے سامنے رکھی جائیں گی۔