نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے دوران قومی ترانہ گانے پر مجبور کرنے پر پولیس کے ذریعہ پانچ مسلم نوجوانوں کی پٹائی کی سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبھانی کی بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ فرانزک رپورٹ کیلئے زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔ دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے سماعت کے دوران کہا کہ نیشنل فارنسک سائنس یونیورسٹی، گجرات سے کچھ ویڈیو فوٹیج کی فرانزک رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت گجرات میں جاری فرانزک تحقیقات کو روک سکتی ہے۔ عدالت فرانزک رپورٹ کا انتظار نہیں کر سکتی۔ فرانزک رپورٹ کا طویل عرصہ سے انتظار تھا، یہ انتظار کب ختم ہوگا؟ اس کیلئے کچھ وقت مقرر کیا جائے۔دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو مسلم نوجوانوں کی پٹائی کرنے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت اور تفتیش میں لاپرواہی کا رویہ اپنانے پر سرزنش کی۔
عدالت نے کہا تھا کہ مرنے والے نوجوان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زخمیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایم ایل سی میں رجسٹرڈ زخمیوں کی تعداد میں کیسے اضافہ ہوا؟ عدالت نے کہا تھا کہ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ پانچ نوجوانوں میں سے ایک کی موت ہو گئی، لیکن چار زندہ ہیں۔ کیا ان پولیس اہلکاروں کی شناخت زندہ بچ جانے والے نوجوانوں سے ہوئی؟ پوری دنیا کی چھان بین کرو گے لیکن عینی شاہدین سے جرح نہیں کرو گے۔ انہوں نے ان چار نوجوانوں کے بیانات قلمبند کرنے کی زحمت تک نہیں کی یہ کیسی تحقیقات ہے؟