دہلی میں SIR کی منسوخی کا مطالبہ، 47.56 لاکھ نام بحال کرنے پر زور

   

نئی دہلی، 7 اکتوبر (ایجنسیز) اپوزیشن کے ’انڈیا ‘ اتحاد کی مختلف جماعتوں کے قائدین نے آج دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر اشوک کمار سے ملاقات کرتے ہوئے ووٹر لسٹ کی جاری خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کو منسوخ کرنے اور مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے 47.56 لاکھ ناموں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، سی پی آئی، سی پی ایم، سی پی آئی (ایم ایل)، آر ایس پی، آل انڈیا فارورڈ بلاک اور ترنمول کانگریس کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے چیف الیکٹورل آفیسر کو ایک یادداشت پیش کی۔ اپوزیشن جماعتوں کے مطابق SIR کے دوران 47 لاکھ سے زائد نام مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کئے گئے، جبکہ 33 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کو ریکارڈ میں مبینہ تضادات کے سلسلہ میں نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ تمام نوٹس واپس لئے جائیں اور ایسے تمام اہل ووٹروں کے نام فوری طور پر انتخابی فہرست میں بحال کئے جائیں جنہیں نظرثانی کے دوران خارج کردیا گیا ہے۔ INDIA اتحاد کے قائدین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ SIR کو جس انداز میں انجام دیا گیا اس سے الیکشن کمیشن کی شفافیت اور کارکردگی پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ اپوزیشن نے انتخابی عمل میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لئے بیلٹ پیپر کے ذریعہ انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب SIR کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ SIR کے ذریعہ ووٹر فہرست کو درست اور مستحق ووٹروں کے نام برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور نوٹس جاری ہونا بذاتِ خود ووٹر کا نام حذف کئے جانے کے مترادف نہیں ہے۔ بعد ازاں INDIA اتحاد کے احتجاج میں دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو اور پارٹی کارکن بھی شامل ہوئے اور جنتر منتر پر احتجاج کیا۔
پولیس نے احتجاج کے دوران بعض کانگریس کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اپوزیشن قائدین کا کہنا ہے کہ SIR کے ذریعہ اہل ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔