محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔22 جولائی۔پر تشدد مظاہرین اور دہشت گردوں کے خلاف استعمال کئے جانے والے ’’پیلیٹ گن‘‘ کا ملک کے دارالحکومت دہلی میں استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنتر منتر پر پولیس نے نہ صرف آنسوگیس شیل برسائے اور لاٹھی سے مارپیٹ کی بلکہ کشمیر اور ہریانہ میں استعمال کئے گئے ’’پیلیٹ گن‘‘ چھروں کی بندوق کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بری طرح سے زخمی کیا گیا ۔ ارشاد نامی نوجوان نے اپنی سیلفی کے ساتھ دواخانہ میں علاج کے دوران ڈالی تصاویر میں دکھایا کہ ان کا چہرہ اور گردن پیلیٹ گن سے نکلنی والی گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹرس کے مطابق ارشاد کے چہرے پر موجود چھروں کو نکال لیا گیا ہے اور اس نوجوان کی آنکھ کے نیچے لگنے والے چھرے کو بھی نکالنے میں کامیابی مل چکی ہے لیکن گردن میں پھنسے چھرے کو نکالنے کے لئے ایک اور سرجری کی ضرورت ہے جو 24 گھنٹے بعد کی جائے گی۔ شیخ ارشاد منصوری جو کہ 20 جولائی کو پالیکا بازار ‘ کناٹ پلیس کے پاس احتجاج میں شامل تھے کو آج دواخانہ سے رجوع کیاگیا تھا جہاں سرجری کرتے ہوئے ڈاکٹرس نے ان کے چہرے سے چھرے نکالے اور ان کے علاج کا آغاز کیا۔ شیخ ارشاد منصوری کی پولیس کی جانب سے کی گئی فائرنگ میں زخمی ہونے کی اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی دہلی پولیس نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس کے پاس کوئی ’’پیلیٹ گن‘‘ یا اس کا اسٹاک موجود نہیں ہے اور نہ ہی دہلی پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے کسی پیلیٹ گن کا استعمال کیا ہے۔ بعد ازاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ احتجاجیوں کو منتشر کرنے میں دہلی پولیس کی معاونت کرنے والے نیم فوجی دستے جن میں سنٹرل ریزرو پولیس اور ریاپڈ ایکشن فورس بھی شامل تھے ان میں سے کسی نے ’’پیلیٹ گن‘‘ کا استعمال کیاہوگا لیکن اس بات کی کسی بھی فورس کے سربراہ یا نمائندہ کی جانب سے توثیق یا تردید نہیں کی گئی ۔ شیخ ارشاد منصوری نے بتایا کہ ابتداء میں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے دوران جو لاٹھی چارج اور برقی شاک دینے کے لئے آلات کا استعمال کیا تھا وہ اس کے نشان ہیں لیکن بعد میں انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ پولیس نے انہیں ’’پیلیٹ گن‘‘ کے ذریعہ انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ شیخ منصوری کی تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک اور نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر گشت کر رہی ہے جس میں وہ اپنے پیٹ کی سیدھی جانب پھسلیوں کو دکھا رہا ہے جس میں ’’پیلیٹ گن‘‘ سے نکلے ہوئے چھروں سے ہونے والے زخم موجود ہیں۔ احتجاج میں شامل نوجوانوں میں کئی نوجوانوں کا یہ احساس ہے کہ انہیں لگنے والی یہ گولیاں جو کہ بندوق سے نکلتی ہیں وہ ’’برقی شاک‘‘ کے نشانات ہیں جبکہ درحقیقت یہ نشان ’پیلیٹ گن‘ کے ہیں جن کے تعلق سے نوجوانوں کو کم معلومات ہیں اور وہ جوش میں ان زخموں سے رسنے والے درد کو برداشت کر رہے ہیں حالانکہ چھروں سے ہونے والے یہ زخم کافی تکلیف دہ ہوتے ہیں ۔ نیم فوجی دستوں اور فوجیوںنے کشمیر میں سال 2010 کے دوران ’’پیلیٹ گن ‘‘ کا استعمال کیاگیا تھا اور اس کے بعد کسانوں کو منتشر کرنے کیلئے 2024 کے دوران ہریانہ میںکسانوں کے خلاف ’’پیلیٹ گن‘‘ کا استعمال کیاگیا تھا‘ اس سے قبل سال 2023 میں منی پور میں بھی نیم فوجی دستوں نے پرتشدد مظاہرین پر ’پیلیٹ گن‘ کے ذریعہ فائرنگ کرتے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو زخمی کیا تھااسی طرح کسانوں کے احتجاج کے دوران پنجاب اور دہلی کی سرحد پر بھی یہ بندوقیں استعمال کی گئی تھیں اور اب پولیس نے ملک کے دارالحکومت دہلی میں ’’چھروں والی بندوق‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے کئی نوجوانوں کو زخمی کیا ہے جو کہ انتہائی کربناک حالات سے گذر رہے ہیں۔ ڈاکٹرس جو ’پیلیٹ گن ‘ کا شکار ہونے والے نوجوانوں کا علاج کر رہے ہیں ان کا کہناہے کہ بیک وقت کئی چھرے نکالنے والی گن سے چلائی گئی گولیاں اگر نازک مقامات پر لگتی ہیں تو ایسی صورت میں نوجوانوں کی جان بھی جاسکتی ہے۔دہلی میں پولیس نے احتجاجیوں پر جس ’’پیلیٹ گن‘‘ کا استعمال کیا ہے وہ عالمی انسانی حقوق کمیشن اور اقوام متحدہ کے تحت خدمات انجام دینے والے انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کے مطابق مکمل طور پر ممنوعہ ہے لیکن اس کے باوجود دہلی میں جاری طلبہ کے احتجاج میں ’’پیلیٹ گن ‘‘ کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اسی لئے ملک کی سرکردہ شخصیات و سماجی جہد کاروں نے اس معاملہ کی جامع اور آزادانہ تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔