روس کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ فی الوقت ٹل گیا : جرمن چانسلر

   

برلن : جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ماسکو پر بین الاقوامی دباؤ کی بدولت یوکرین کے خلاف روسی جنگ میں ممکنہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے میں مدد ملی ہے۔جرمن چانسلر اولاف شولس نے جمعرات کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے یوکرین کی جنگ میں ماسکو کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ کافی کم ہو گیا ہے۔یوکرین جنگ کے تعلق سے جرمن چانسلر سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کے خیال میں نیوکلیئر ہتھیار کے استعمال کا خطرہ ٹل گیا ہے؟ اس پر انہوں نے کہاکہ فی الحال تو ہم نے اس پر روک لگا دی ہے۔انہوں نے جرمن میڈیا گروپ ‘فنکے’ کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا کہ وقتی طور پر ایک چیز بدل گئی ہے، روس نے نیوکلیئر ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیاں دینا بند کر دی ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے سرخ لکیر کی جو بات کہی تھی یہ اس کے جواب میں ہوا ہے۔ ان سے جب ماسکو کے لیے حفاظتی ضمانتیں فراہم کرنے سے متعلق فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے متنازعہ تبصرے کے بارے میں پوچھا گیا تو، جرمن چانسلر نے کہا کہ روس کی ترجیح، ‘فوری طور پر جنگ کو ختم کرنے اور اپنی فوجوں کو واپس بلانا ہونی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا،یہ درست ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ پھر ہم یورپ کی سلامتی کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔ یقینا یورپ میں ہتھیاروں کے کنٹرول کے تعلق سے ہم روس کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے جنگ سے پہلے بھی یہ پیشکش کی تھی، اور اس موقف میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی ہے۔