ریونت ریڈی سے بہتر آندھرائی حکمران تھے: کے سی آر

   

تلنگانہ 90 دن میں برقی بحران کا شکار، کسان پریشان، کریم نگر جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے کانگریس حکومت کی تین ماہی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریونت ریڈی سے بہتر متحدہ آندھرا قائدین کی حکمرانی تھی۔ تلنگانہ میں برقی بحران شروع ہوگیا ۔ فصلوں کو پانی نہ ملنے سے خشک سالی پیدا ہوگئی۔ کسانوں کے علاوہ سماج کے تمام طبقات پریشان ہیں ۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے خلاف ووٹ دے کر بی آر ایس کو کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی۔ کریم نگر میں بی آر ایس کے جلسہ سے خطاب میں کے سی آر نے کہا کہ کسانوں کی حالت دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ کانگریس حکمران کی ناتجربہ کاری سے کسان بلی کا بکرا بنے ہیں۔ 10 سال انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر خدمات انجام دیں ایک ایکڑ اراضی بھی کبھی خشک سالی کا شکار نہیں ہوئی ۔ کانگریس حکومت کے 90 دن میں کسان پریشان ہیں۔ نہ انہیں برقی سربراہ ہو رہی ہے اور نہ انہیں فصلوں کو سیراب کرنے پانی دستیاب ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ان سے بہتر تو آندھرائی حکمرانی تھی، تلنگانہ کی عزت و نفس کو دہلی میں رہن رکھ دیا گیا ۔ اگر اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کامیاب ہوتی تو وہ ملک کو باشعور بنا دیتے ۔ کے سی آر اقتدار سے بیدخل ہوتے ہی برقی بحران شروع ہوگیا ہے۔ ریتو بندھو ختم کردیا گیا ۔ پولیس عہدیدار سیاست میں مداخلت کررہے ہیں ۔ سوشل میڈیا میں پوسٹ پر گرفتاری ہو رہی ہے۔ گاؤں میں خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ اگر ہم یہی پالیسی پر عمل کرتے تو تلنگانہ سے کانگریس کا نام و نشان مٹ جاتا تھا۔ کالیشورم پراجکٹ میں ریت کے کھسک جانے سے دو پلرس زمین میں دھنس گئے ہیں اس پر کانگریس کو ملک کو نقصان پہنچنے جیسا تشہیر کر رہی ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ وہ دو دن میں ٹیلی ویژن چیانلس کے سامنے آئیں گے اور کالیشورم کے حقائق سے عوام کو واقف کرائیں گے۔ 6 ضمانتوں و دیگر 420 وعدے کرکے اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس حکومت وعدوں کو نبھانے میں ناکام ہوگئی ۔ ناکامیوں پر سوال کیا جارہا ہے تو دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ ان دھمکیوں سے بی آر ایس گھبرانے والی نہیں ہے۔ چیف منسٹر کا لب و لہجہ مہذب سماج کیلئے زیب نہیں دیتا۔ 2