نئی دہلی: آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ نے محمد زبیر کی ضمانت کی د رخواست کو خارج کردیا ہے۔ دہلی پولیس نے محمد زبیر کی ضمانت کی مخالفت کی تھی۔ پٹیالہ ہاوس کورٹ نے محمد زبیر کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ دہلی پولیس کے ذریعہ کی جارہی جانچ کے دوران ضمانت دینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔واضح رہے کہ پٹیالہ ہاوس کورٹ نے آلٹ نیوز کے بانی محمد زبیر کی ضمانت عرضی خارج کرتے ہوئے اسے 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجا ہے۔ دہلی پولیس کی IFSO یونٹ نے دلیل دی تھی کہ کئی ممالک سے فنڈنگ کو لے کر ثبوت ملے ہیں، جس کو ویریفائی کرنا ہے۔ آگے دوبارہ محمد زبیر سے پوچھ گچھ کرنی پڑ سکتی ہے، اس لئے فی الحال جیل بھیج دیا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر دوبارہ محمد زبیر کی ریمانڈ کے لئے IFSO ٹیم درخواست دے سکے۔اس سے قبل محمد زبیر کے ذریعہ 2018 میں مبینہ طور پر کئے گئے ایک قابل اعتراض ٹوئٹ معاملے کی جانچ کے لئے سلسلے میں جمعرات کو بنگلورو واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچی تھی۔
محمد زبیر پر دہلی پولیس کے نئے الزامات
نئی دہلی۔ دارالحکومت دہلی کی پولیس نے 2018ء کے ایک ٹوئٹ کو بہانہ بنا کر گرفتار کیے گئے مسلم صحافی محمد زبیر پر نئے الزامات لگا دیئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دہلی پولیس کی جانب سے محمد زبیر پر مجرمانہ سازش اور ثبوت کو تباہ کرنے کے تازہ الزامات لگائے گئے ہیں۔ دہلی پولیس نے نئے الزامات کو ایف سی آر اے یا فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ کے سیکشن 35 کے ساتھ شامل کیا ہے۔ دہلی پولیس نے پٹیالہ ہاوس کورٹ کو بتایا ہے کہ مجرمانہ سازش اور ثبوت کو تباہ کرنے کے الزامات ایف آئی آر میں ایف سی آر اے کی دفعہ 35 کے ساتھ شامل کیے گئے ہیں۔ دوران سماعت دہلی پولیس نے عدالت سے مسلم صحافی محمد زبیر کی 14 دن کے لیے جوڈیشل کسٹڈی بھی مانگی ہے جبکہ گرفتار صحافی محمد زبیر کے وکیل نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ خیال رہے کہ دہلی پولیس نے مسلم صحافی محمد زبیر کو 27 جون کو 2018ء کے ایک ٹوئٹ کو بہانہ بنا کر گرفتار کیا تھا اور ان پر لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا گیا تھا۔