جمعرات کی صبح ساحلی علاقوں سے ٹکرا سکتا ہے : محکمہ موسمیات
چینائی ؍وشاکھاپٹنم/امراوتی۔27؍اکتوبر ( ایجنسیز )خلیجِ بنگال میں پیدا ہونے والا سمندری طوفان ‘ارنب’ اب ایک انتہائی سنگین سائیکلونک طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کا ریاست پر شدید اثر پڑے گا۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طوفان کی وجہ سے ہونے والا نقصان بہت بڑا ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا اثر پورے دن جاری رہے گا۔ ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ اس دوران تیز طوفانی ہوائیں چلیں گی اور انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر تمام متعلقہ حکام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے طوفان سے متاثرہ اضلاع میں چہارشنبہ کو بھی تمام تعلیمی اداروں میں تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر مغربی گوداوری کی ضلع کلکٹر چڈالواڑا ناگرانی نے اعلان کیا ہے کہ ضلع کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں منگل کے علاوہ چہارشنبہ کو چھٹیاں رہیں گی۔ دوسری جانب، وشاکھاپٹنم کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) پریم کمار نے بتایا کہ ضلع کلکٹر کے احکامات کے مطابق دو دن تمام اسکولوں کو لازمی بند رکھا جائے گا۔ ٹاملناڈو کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی مقامات پر پانی سڑکوں پر جمع ہو گیا جس سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ بعض علاقے بجلی سے محروم ہوگئیاور گھروں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران محکمہ موسمیات نے خلیج بنگال میں بڑھتے ہوئے طوفان کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے بلیٹن کے مطابق مغربی وسطی خلیج بنگال کی جانب بڑھنے والا طوفان مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ اس کے بہت شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے۔ پیش گوئی کے مطابق طوفان آندھرا پردیش کے ساحل پر باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان، یانم کے قریب ٹکرا سکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان جمعرات کی صبح ساحلی علاقوں سے ٹکراسکتا ہے ۔