سابق گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے ٹیلی فون بھی ٹیاپ کئے گئے

   

راج بھون کے لینڈ لائن نمبرس بھی ٹیاپنگ کی زد میں
حیدرآباد۔/14 اپریل، ( سیاست نیوز) سابق بی آر ایس دور حکومت میں ٹیلی فون ٹیاپنگ اسکام کی جانچ نے کئی نئے خلاصے چونکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ اپوزیشن قائدین اور ان کے رشتہ داروں کے علاوہ صنعتی گھرانوں کے ٹیلی فون ٹیاپنگ کی شکایات عام تھیں لیکن تازہ ترین انکشاف میں بتایا گیا ہے کہ سابق گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے موبائیل نمبرس اور راج بھون کے لینڈ لائن نمبرس کی ٹیاپنگ کی گئی۔ سابق حکومت نے ٹیلی فون ٹیاپنگ کیلئے مرکزی وزارت داخلہ سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی تھی اور گورنر جیسے دستوری ادارہ کے ٹیلی فون ٹیاپ کرنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیشل انٹلیجنس برانچ کے عہدیداروں نے ملزمین سے تفتیش کے دوران اس بات کا خلاصہ حاصل کیا ہے کہ سابق گورنر ڈاکٹر سوندراراجن بھی ٹیاپنگ کی زد میں تھیں۔ راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کئی برسوں تک کشیدہ صورتحال رہی اور گورنر نے بی آر ایس حکومت کے کئی بلز کو واپس کردیا تھا۔ اس کے علاوہ گورنر زمرہ کی ایم ایل سی نشستوں کیلئے پیش کردہ ناموں کو مسترد کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے 2022 میں مرکزی وزارت داخلہ کو موبائیل فون اور راج بھون کے لینڈ لائن نمبرس کی ٹیاپنگ کے بارے میں خدشات ظاہر کئے تھے۔ گرفتار کئے گئے پولیس عہدیداروں سے تفتیش کے دوران پتہ چلا ہے کہ راج بھون پر کڑی نظر رکھی جارہی تھی۔ موجودہ حکومت نے تحقیقاتی عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ کی مزید جانچ کرتے ہوئے خاطی عہدیداروں کا پتہ چلائیں۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ پبلک پراسیکیوٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملزمین کی ضمانت کی درخواستوں کی مخالفت کریں۔1