ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کے علاوہ یونیفارمس ، نوٹ بکس اور شوز کی تقسیم کا آغاز، دیہی علاقوں میں مثبت نتائج
حیدرآباد ۔15 ۔ جون (سیاست نیوز) سرکاری اسکولوں میں تعلیم ترک کرنے کے رجحان کو ختم کرتے ہوئے ڈراپ آوٹس روکنے کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایک منفرد اسکیم اختیار کی ہے ۔ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی بھوک مٹانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے نوٹ بکس ، یونیفارمس اور معیاری شوز کی سربراہی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکولوںکی کشادگی کے پہلے دن ہی حکومت نے تمام طلبہ کو مفت سربراہی کا آغاز کیا تاکہ غریب اور متوسط خاندانوں پر تعلیمی اخراجات کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں واقع سرکاری اسکولوں سے وابستہ ٹیچر سے پوچھا جائے کہ ذہین طلبہ کے تعلیم ترک کرنے کی وجہ کیا ہے، اس کے جواب میں پتہ چلا کہ دیگر طلبہ کے مقابلہ بہتر سہولتوںکی کمی کے نتیجہ میں شرمندگی سے طلبہ اسکول آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے تمام طلبہ کو حکومت کی جانب سے بیاگس ، شوز ، نوٹ بکس اور یونیفارم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر کا ماننا ہے کہ بھوکے بچے بہتر تعلیم پر توجہ نہیں دے سکتے، لہذا حکومت نے ناشتہ اور دوپہر کے کھانے کا اسکولوں میں انتظام کیا ہے۔ تعلیمی سال 2026-27 سے اس اسکیم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت نہ صرف سرکاری اسکولوں بلکہ کستوربا گاندھی ، بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتی اقامتی اسکولوں کے طلبہ میں تقسیم کا آغاز کیا گیا۔ یونیفارم کی کوالیٹی برقرار رکھنے کیلئے مفت لال کمپنی کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جونیئر کالج کے طلبہ کو بھی مکمل تعلیمی کٹ سربراہ کیا جارہا ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو یونیفارمس کی سلوائی کیلئے 40 کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق معیاری تعلیمی اشیاء کے علاوہ ناشتہ اور دوپہر میں روزانہ علحدہ مینو رکھا گیا ہے۔1/k