سرکاری ملازمین اور پنشنرس کیلئے حادثاتی انشورنس اسکیم متعارف

   

1.5 کروڑ کی ادائیگی، آؤٹ سورسنگ اورکنٹراکٹ ملازمین بھی اسکیم کے دائرہ میں
چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 14 بینکرس سے معاہدہ پر دستخط کئے
حیدرآباد ۔25 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے سرکاری ملازمین کیلئے حادثاتی انشورنس کی خوشخبری دی ہے ۔ حادثاتی انشورنس کے تحت سرکاری ملازمین اور پنشنرس کو 1.5 کروڑ روپئے حاصل ہوں گے اور اس اسکیم سے 15 لاکھ ملازمین کو فائدہ ہوگا۔ پنشنرس، آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کو بھی حادثاتی بیمہ اسکیم کے دائرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے حادثاتی بیمہ اسکیم کے سلسلہ میں آج 14 بینکرس کے ساتھ یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے۔ رویندرا بھارتی میں منعقدہ اس تقریب میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا ، ریاستی وزراء پونم پربھاکر ، محمد اظہرالدین ، لکشمن کمار ، جی ویویک وینکٹ سوامی ، پی سرینواس ریڈی، چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ اور ملازمین کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کسی بھی ادارے اور حکومت کیلئے محنت کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی بھلائی کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی جانب سے مطالبہ کے بغیر ہی تلنگانہ حکومت نے ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم متعارف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اور پنشنرس کو انشورنس کی فراہمی سے وہ مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد پنشنرس کو بھی اسکیم کے دائرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ ایکسیڈنٹ بیمہ کے تحت ایک کروڑ تا 1.5 کروڑ حاصل ہوں گے جبکہ طیارہ کے حادثہ کی صورت میں بینکس کی جانب سے 2 تا 3 کروڑ کا انشورنس فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ہر شعبہ میں ملک کی نمبر ون ریاست بنانے کی مساعی کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ اور ان کے وزراء عوام کی بھلائی کے لئے دن رات مصروف ہیں اور وہ مخالفین کی جانب سے تنقیدوں اور توہین کی پرواہ نہیں کرتے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ ایک اوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں غریب اور متوسط طبقات کی مشکلات اور دشواریوں کا بہتر علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عہدہ سے عوام سے رابطہ ختم نہیں ہوتا۔ انہوں نے ملازمین سے کہا کہ وہ ریاست کی ترقی کیلئے ایک گھنٹہ زائد کام کرنے کا عہد کریں۔ حکومت کے وسائل اور آمدنی میں اضافہ کیلئے ملازمین کو مساعی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے ریاست کی معیشت کو کمزور کردیا اور حکومت کی آمدنی ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کافی ہورہی تھی۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد ملازمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پے ریویژن کمیشن کے بارے میں حکومت نے جو وعدہ کیا ہے ، اسے پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے ہر پانچ سال میں بدلتی ہے لیکن ملازمین اپنی وظیفہ کی عمر تک برقرار رہتے ہیں۔ حکومت کی رہنمائی اور مدد کرنا ملازمین کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد 70 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی سے آلودگی کے خاتمہ کیلئے ترقیاتی پراجکٹ منظور کیا گیا۔ یہ پراجکٹ شہر کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا اور موسیٰ ندی کے اطراف تجارتی اور سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سنگارینی کالریز کے ملازمین کیلئے ایک کروڑ روپئے کا ایکسیڈنٹ بیمہ متعارف کیا گیا اور 45 فوت ہونے والے ملازمین کے افراد خاندان کو فی کس ایک کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ سنگارینی ملازمین کے انشورنس سے متاثر ہوکر حکومت نے ملازمین اور پنشنرس کو انشورنس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ جو تشکیل کے وقت فاضل آمدنی کی ریاست تھی، اسے کے سی آر نے دس برسوں میں 8 لاکھ 11 ہزار کروڑ کا مقروض بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اسکیمات میں کامیابی اور اس کی نیک نامی کا انحصار ملازمین کی کارکردگی پر ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میٹرو ریل اور موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کی اپوزیشن کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کیلئے میٹرو پراجکٹ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 ماہ میں ایک دن بھی انہوں نے چھٹی نہیں لی۔1/k