سعودی ولیعہد کا حوثیوں کو سخت انتباہ، ریاض پر میزائل حملے کی کوشش ناکام

,

   

ہوائی اڈوں، شہری و معاشی تنصیبات اور مقدس شہروں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے

ریاض؍ صنعا، 14 اکتوبر (ایجنسیز): سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کے تناظر میں کابینی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی کابینہ نے انتباہ دیا کہ سعودی ہوائی اڈوں، شہری و معاشی تنصیبات اور مقدس شہروں مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے والے حوثیوں کو اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ دریں اثنا، سعودی قیادت میں سرگرم اتحادی افواج نے چہارشنبہ کو ریاض کی جانب داغے گئے حوثی بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ سعودی حکام کے مطابق میزائلوں کو فضا میں روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے ریاض کے رہائشی علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچا اور چار افراد زخمی ہوئے (متعلقہ خبر کی تفصیل اندرونی صفحہ پر) ۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گروپ نے سعودی آرامکو کی ظہران میں واقع تنصیبات اور ریاض کے ہوائی اڈے سمیت اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس سے قبل ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ہلاکتوں اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی کابینہ نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کی آزادی اور مملکت کے دفاع کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوسری جانب یمن کے حوثی زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا میں سعودی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائیوں کی بھی اطلاعات ہیں، جس کے بعد دونوں جانب سے مزید جوابی حملوں کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔