سلاطین آصف جاہی کی یادگاروں سے تغافل یا سازش !

   

آرٹس کالج جامعہ عثمانیہ کی عمارت یکسر نظر انداز ۔ چھت ٹپکنے کی شکایت۔ کوئی کام نہیں کئے گئے
حیدرآباد۔5جولائی (سیاست نیوز) حکومت آصف جاہی سلاطین کی یادگاروں کو ختم کرنا چاہتی ہے!دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے میں ناکامی کے بعد اب جامعہ عثمانیہ آرٹس کالج کی عمارت کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کرکے عمارت کو نقصان پہنچنے چھوڑ دیا گیا ۔ تلنگانہ تحریک کے دوران جامعہ عثمانیہ کو مرکز کے طور پر پیش کیا گیا اور ٹی آر ایس کی جانب سے جامعہ عثمانیہ کی تاریخی عمارتوں‘ جامعہ کے کنٹراکٹ و عارضی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے‘ طلبہ کو روزگار کے علاوہ کئی وعدے کئے گئے لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد اب تک جامعہ عثمانیہ کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی اور نہ جامعہ عثمانیہ آرٹس کالج کی عمارت کے تحفظ اور تزئین نو کیلئے مرمتی کاموں کا آغاز کیا گیا ۔ آرٹس کالج کی عمارت کی چھت ٹپکنے کی شکایات کے باوجود بھی اس کی آہک پاشی نہیں کی گئی ۔ موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈی رویندر سال جب وہ آرٹس کالج پرنسپل تھے انہوں نے چھت ٹپکنے اور دیواروں میں پانی اترنے کی شکایت کے ساتھ انچارج وائس چانسلر مسٹر اروند کمار سے 3 کروڑ بجٹ منظور کروایا تھا تاکہ عمارت کے تحفظ اور تزئین کو تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے مکمل کیا جاسکے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جامعہ عثمانیہ آرٹس کالج کی عمارت کی چھت ٹپکنے پر ماہرین سے مشاورت کے بغیر مرمت کی جاتی رہی جس سے اس خوبصورت عمارت کو گذشتہ 25تا30برسوں میں کافی نقصان پہنچا لیکن سال گذشتہ انچارج وائس چانسلر اروند کمار نے مرمت اور آہک پاشی کیلئے 3کروڑ روپئے جاری کئے لیکن تاحال ان کاموں کو انجام نہیں دیا گیا ۔آرٹس کالج کی چھت ٹپکنے کے علاوہ معمولی مرمتی کام ضروری ہیں لیکن نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ انتظامیہ اور حکومت سے عمارت کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے اور حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی کے مسائل اور یونیورسٹی ملازمین اور طلبہ کے مسائل کو حل کرنا تو دور‘ ان کے مسائل پر توجہ دینا بھی بند کردیا ہے اور حکومت جامعہ عثمانیہ کے طلبہ اور عملہ کے ساتھ دشمن جیسا رویہ اختیارکئے ہوئے ہے۔م