نئی دہلی :سماعت سے محروم خاتون وکیل سارہ سنی نے سپریم کورٹ میں ایک کیس میں جرح کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔ ان کی اس کامیابی نے ایسے معذور افراد نیز ان کی ترجمانی کرنے والوں کے لیے بھی نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ سپریم کورٹ میں ایک کیس کی پیروی کے لیے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کے سامنے حاضر ہونا سارہ سنی کے لیے خواب کے حقیقت بننے کے مترادف تھا۔ وہ گزشتہ 22 ستمبر کو عدالت میں حاضر ہوئیں اور علامتی زبان میں ترجمانی کرنے والے(انٹرپریٹر) شخص کی مدد سے اپنے موکل کا کیس پیش کیا۔ سارہ کو سماعت سے محروم پہلی رجسٹرڈ وکیل سمجھا جاتا ہے، اب وہ سپریم کورٹ میں بھی جرح کرنے والی ایسی پہلی وکیل بن گئیں۔ قبل ازیں چیف جسٹس چندر چوڑ نے سارہ کو انٹرپریٹر کی مدد سے جرح کرنے اجازت دے دی۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران کوشش کے باوجود نچلی عدالتوں نے انہیں جرح کے لیے انٹرپریٹر کی مدد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ انہوں نے جاوید عابدی فاونڈیشن کی طرف سے دائر کردہ اس عرضی پر جرح کی جس میں معذور آبادی کی مساوی شراکت داری اور حقوق کے نفاذ کی درخواست کی گئی ہے۔ سارہ سنی کی اس کامیابی نے عدالتی نظام کو درپیش ایک بڑے چیلنج کو بھی اجاگر کیا ہے کہ سماعت اور گویائی سے محروم افراد کی انصاف تک رسائی کس طرح ہو۔ آزادی ملنے کے 74سال بعد 2021 میں ایک وکیل کے طورپر 27 سالہ سارہ سنی کو باضابطہ رجسٹریشن مل سکا تھا۔