سیاست اور ملت فنڈ کے رشتوں کے دو بہ دو پروگرام کا کامیاب انعقاد

   

شہر اور اضلاع سے والدین و سرپرستوں کی کثیرتعداد نے استفادہ کیا ، رشتوں میں اسلامی نظریات ملحوظ رکھنے پر زور

حیدرآباد ۔ 15 جنوری ۔ ( سیاست نیوز) مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں کو آسان بنانے کیلئے سیاست اور ملت فنڈ کی جانب سے آج 139 واں دو بہ دو ملاقات پروگرام ریڈ روز پیلس ، روبرو حج ہاؤز ، نامپلی حیدرآباد میں منعقد ہوا جس میں والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد نے شریک ہوکر رشتوں کے لئے باہمی ملاقات اور مشاورت کی ۔ جناب اصغر علی خان فرزند جناب ظہیرالدین علی خان سے والدین نے مشاورت کرتے ہوئے دو بہ دو پروگرام کی کامیابی پر اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور جناب ظہیرالدین علی خان کے حق میں دعائے مغفرت بھی کی ۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ ایسے لڑکے و لڑکیاں جو بیرونی ممالک میں برسرروزگار ہیں اُن کے لئے رشتوں کا یہ پلیٹ فارم مفید و معاون ثابت ہورہا ہے۔اس لئے انجینئرنگ کاؤنٹر پر زیادہ تررشتے بیرونی ممالک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لڑکوں کے ہیں۔ انجینئرنگ سیکشن میں پروجیکٹر کی مدد سے والدین کو لڑکوں کے فوٹوز اور بائیو ڈاٹا بتایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ناظم علی سابق پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سورتاڑ ( نظام آباد ) نے کہاکہ زندگی گذارنے کیلئے تعلیم و تربیت اور ملازمت کے ساتھ ساتھ معاشی موقف کا مستحکم ہونا،اتنا ہی ضروری ہے جتنا شادی کا ہونا ۔ اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ والدین اسلامی تناظر میں اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے طئے کریں۔ انھوں نے کہا کہ شادی بیاہ کے معاملہ میں اسلامی فکر و جذبہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ جہیز کی بڑھتی ہوئی مانگ جیسی خرافات اور شادی وقت پر نہ ہونے کے باعث ایک دوسرے میں منفی اثرات پیدا ہورہے ہیں اور زیادہ تر لڑکیاں ارتداد کا شکار ہورہی ہیں ۔ ایسے میں سماج و معاشرہ کے افراد بے ہودہ رسومات کو ترک کرنے کے ساتھ تعلیمیافتہ رشتہ کی طرف اپنے رجحانات و نظریہ کو بڑھارہے ہیں ۔ لہذا تعلیمی یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں میں اسلامی شعور و فکر کو بھی دیکھیں اور اُ نہیں گھریلو مسائل سے موثر نپٹنے کا ہنر بھی آنا چاہئے ۔ جناب صالح بن عبداللہ بن حاذق نے والدین اور سرپرستوں کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ اب تک سیاست اور ملت فنڈ کی جانب سے 139 واں پروگرام ہوا ہے۔ یہ پروگرامس دونوں شہروں کے علاوہ اضلاع محبوب نگر ، ورنگل ، کریم نگر ، وقارآباد اور اضلاع کے دیگر مقامات پر منعقد ہوئے جہاں پر والدین کی اچھی خاصی تعداد شریک تھی ۔ انھوں نے کہاکہ شادیوں میں اسراف سے بچنے کی عادت ڈالیں۔ غریب لڑکیوں کی شادیوں اور ایک میٹھا اور ایک کھانے ( سابق ) کے ساتھ فضول خرچی سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ اس کے بجائے والدین کی نگاہیں لڑکی کے ویری ویری فیر پر جارہی ہے ۔ جناب الیاس باشاہ نے کہاکہ جب سے مسلمانوں نے قرآن پاک کی تعلیم کو ترک کردیااس وقت سے سادگی اُن کے مکانات سے غائب ہوچکی ہے او رجن لوگوںنے سادگی اور اخلاق و کردار سے دوری اختیار کی تو آپسی محبت ، ایک دوسرے کا خیال و اعتماد ختم ہوگیا۔ انھوں نے کہاکہ آج حالات نازک ہوچکے ، اس پروگرام کے ذریعہ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے ایک ڈش کی طرف توجہہ کو مبذول کروائی تو ایک بڑی تعداد نے اس سے استفادہ حاصل کرکے اپنے لڑکیوں کی زندگی کو جنت نشان بنانے کی کوشش میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آج جابجا رجسٹریشن کی شادیوں کا رواج عام ہوتا جارہاہے ۔ غیر مذہب کو اختیار کرنے کی طرف لڑکیاں زیادہ راغب ہوتی جارہی ہیں۔ ہمیں اُنھیں یہودی ، نصرانی ، عیسائی ماحول سے نکال کر اسلامی ماحول کی طرف لاناہے تاکہ دینداری کو بنیاد بناتے ہوئے شادیاں اس شہر میں آسان سے آسان ہوسکے ۔ حسب سابق دو بہ دو پروگراموں کی طرح میڈیسن ، انجینئرنگ ، پوسٹ گریجویشن ، ایم بی اے ، ایم سی اے ، گریجویٹس ، انٹر، ایس ایس سی ، عالم و فاضل، عقدثانی کے علاوہ تاخیر سے شادی ، معذور لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں کے کاؤنٹرس رکھے گئے تھے جہاں والدین نے بائیوڈاٹا کی مدد سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھے گئے ۔ اس کے علاوہ ہیلپ لائین کی مدد سے والدین نے پروگرام کی تفصیلات معلوم کی ۔ اس پروگرام میں مختلف کاؤنٹرس ، انجینئرنگ پر رئیس، ناظم علی ، میڈیکل پر ڈاکٹر دردانہ ، ایس سی باشاہ ، پوسٹ گریجویشن پر لطیف اللہ اور لطیف النساء ، گریجویٹ پر محترمہ تسکین ، صالح بن عبداللہ باحاذق ، ایس ایس سی ، عالم و فاضل پر محترمہ کوثر جہاں ، عقدثانی پر محترمہ ثانیہ اور محمد احمد اور معذورین اور تاخیر پر محترمہ آمنہ خان نے رشتوں سے متعلق بات چیت کرنے میں والدین کی رہنمائی کی ۔ جناب خالد محی الدین اسد اور محترمہ فرزانہ بانو اور دوسروں نے سوپر وائیزنگ کے فرائض انجام دیئے ۔ جناب صالح بن عبداللہ باحاذق نے کارروائی چلائی ۔ قاری الیاس باشاہ کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا اور اُن ہی کے شکریہ پر دو بہ دو ملاقات پروگرام کا اختتام عمل میں آیا ۔