شارجہ میں بھارتی شہری کا قتل، لاش نو ٹکڑوں میں ملی

,

   

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اس کے بھائی نے اسے وائس میسج بھیجا لیکن معمول کے صوتی جواب کے بجائے ٹیکسٹ میسج موصول ہوا۔

دبئی/اڈوپی: شارجہ میں تقریباً 20 سال سے کام کرنے والے ایک بھارتی شہری کو قتل شدہ حالت میں پایا گیا اور اس کی لاش کے ٹکڑے (جو نو حصوں پر مشتمل تھے) اس کی کار کی ڈکی (بوٹ) سے برآمد ہوئے۔

کرناٹک کے ضلع اڈوپی کے علاقے کنڈا پور سے تعلق رکھنے والے پرکاش کنڈر، شارجہ ایئرپورٹ سے منسلک ایک ایجنسی میں ملازم تھے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب طویل عرصے تک ان کی عدم موجودگی پر اہل خانہ کو تشویش لاحق ہوئی۔ بھارت میں موجود ان کے بھائی نے انہیں وائس میسج بھیجا لیکن معمول کے صوتی جواب کے بجائے ٹیکسٹ میسج موصول ہوا۔ رابطے کے اس غیر معمولی انداز نے اہل خانہ میں شبہ پیدا کر دیا۔

اس کے بعد رشتہ داروں نے پرکاش کے دفتر سے رابطہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ بھارت واپس جا چکے ہیں، جو کہ غلط معلومات تھیں۔

بعد ازاں شارجہ میں مقیم رشتہ داروں نے پولیس سے رابطہ کیا اور ان کی گمشدگی کی باضابطہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو مبینہ طور پر پرکاش کی کار ملی اور اس کی ڈکی میں انسانی باقیات چھپائی گئی تھیں۔ لاش کو مبینہ طور پر نو حصوں میں کاٹا گیا تھا جس کی وجہ سے شناخت مشکل ہو گئی تھی۔

متوفی کی شناخت کے لیے پولیس نے پرکاش کے اہل خانہ سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے۔ رشتہ داروں کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق، فرانزک معائنے سے تصدیق ہوئی کہ یہ باقیات پرکاش کی ہی تھیں۔

شارجہ پولیس جولائی کے آخر سے اس کیس کی تفتیش کر رہی ہے اور قتل سے قبل پیش آنے والے حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔ تفتیش کا ایک اہم پہلو اس واقعے کے بعد پرکاش کی اہلیہ، ٹینا کنڈر اور ان کے بیٹے کی مبینہ گمشدگی ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ٹینا نے کسی اور شخص کی مدد سے قتل میں کوئی کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔ اہل خانہ نے بھی ان کے ٹھکانے کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں تلاش کیا جائے اور پرکاش کی موت کے حالات کا تعین کیا جائے۔

مبینہ قتل کی وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا ہے۔ توقع ہے کہ تفتیش کار اپنی تحقیقات کے حصے کے طور پر پرکاش کے روزگار، مالی معاملات، ذاتی تعلقات اور گمشدگی سے قبل کی نقل و حرکت کا جائزہ لیں گے۔

دریں اثنا، رشتہ دار پرکاش کی باقیات کو بھارت واپس لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اہل خانہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مزید مدد کے لیے بھارتی حکام سے رابطہ کریں گے اور باقیات کی واپسی کے بعد مکمل تحقیقات کا مطالبہ کریں گے۔