نئی دہلی :ملک سے غداری کے ایک معاملے میں دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے دہلی تشدد کے ملزم شرجیل امام کی ضمانت عرضی خارج کر دی ہے۔ اس سے قبل عدالت نے ملک سے غداری معاملے میں شرجیل کی عبوری ضمانت کو لے کر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ عدالت نے دہلی پولیس کو شرجیل امام کی عبوری ضمانت کی عرضی سے متعلق 30 مئی کو نوٹس جاری کیا تھا۔ دہلی ہائیکورٹ نے شرجیل امام کو ضمانت کے لیے ذیلی عدالت میں جانے کے لیے کہا تھا، جس کے بعد 27 مئی کو وہ عبوری ضمانت کے لیے ذیلی عدالت میں گئے تھے۔ میڈیاکے مطابق 20 جولائی کو ہی دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ میں شرجیل امام کی عبوری ضمانت کو لے کر سماعت ہونے والی تھی، لیکن عدالت نے عبوری ضمانت پر فیصلہ کو ملتوی کر دیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے کہا تھا کہ 23 جولائی کو اس معاملے پر فیصلہ سنایا جائے گا، اور آج اس عبوری ضمانت کی درخواست کو مستردکر دیا گیا۔واضح رہے کہ شرجیل امام کی جیل میں جب تلاشی لی جا رہی تھی تو اس پر جیل افسران اور قیدیوں پر حملہ کرنے کی بات کہہ کر اس پر دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں بھی 20 جولائی کو تہاڑ جیل سپرنٹنڈنٹ کڑکڑڈوما کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ انھوں نے شرجیل امام کی ان ویڈیوز کو بھی عدالت کے حوالے کیا جو 30 جون کے دن جیل میں رہنے کے دوران سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوئی تھیں۔