سیاسی مخالفت نظر انداز ۔ انتخابات سے قبل سب کو خوش کرنے کی کوششیں
حیدرآباد 7 اپریل ( سیاست نیوز ) ماہ رمضان المبارک میںافطار کی دعوتیں عام بات ہیں۔ اکثر و بیشتر دیکھا جاتا ہے کہ ماہ رمضان کے آغاز سے ہی افطار کی دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کو مدعو کرتے ہیں اور ان کی ضیافت کی جاتی ہے ۔ افطار اور ڈنر کا بہتر انداز میںانتظام کیا جاتا ہے ۔ حیدرآباد ویسے بھی گنگا جمنی تہذیب کا مرکز رہا ہے ۔ یہاں عیدوں اور تہواروں میں ہندو ۔ مسلم ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے ہوئے ایک مثبت پیام دیتے ہیں۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھنے میں آیا ہے کہ افطار کی دعوتوں کو بھی سیاسی اور تجارتی مقصد براری کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ۔ کہیںافطار کی دعوتوں میں واقعتا گنگا جمنی تہذیب دکھائی دیتی ہے اور دیگر مذاہب کے ماننے والے افراد بھی اپنے مسلم دوستوں کیلئے افطار کی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں تو کہیں صرف سیاسی مقصد براری کیلئے افطار کی دعوتوں کا سہارا بھی لیا جانے لگا ہے ۔ وہ لوگ بھی افطار کی دعوتوں میں شریک ہوتے اور ایک دوسرے کی خاطر تواضع کرتے دکھائی دینے لگے ہیں جو اپنی سیاسی بیان بازیوں میں ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے گریز نہیںکرتے ۔ ایک دوسرے کو لتاڑنے اور تنقیدیں کرنے کے باوجود افطار کی دعوتوں میں محض سیاسی فائدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے خاطر تواضع سے گریز نہیںکرتے ۔ اب جبکہ پارلیمانی انتخابات کا ماحول گرم ہونے لگا ہے اور سیاسی سرگرمیاںبڑھنے لگی ہیں ایسے میں وہ سیاسی قائدین بھی افطار کی دعوتوں کا اہتمام کرنے لگے ہیںجو دوسروں پر افطار کو سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے اور اسے خوشامد قرار دینے سے گریز نہیںکرتے تھے ۔