شہر میں جائیدادوں کی فروخت میں 65 فیصد گراوٹ

   

رہائشی اپارٹمنٹ زیادہ متاثر۔ رئیل اسٹیٹ شعبہ و بلڈرس کیلئے تشویش کی صورتحال
حیدرآباد۔11مارچ(سیاست نیوز) شہر میں جائیدادوں کی فروخت میں 65 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور سال گذشتہ ماہ فروری کے دوران ہونے والے رجسٹریشن کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2022 فروری میں جائیدادوں کے رجسٹریشن میں 64 فیصد گراوٹ آئی ہے ۔ شہر کے ساتھ میڑچل۔ملکاجگری ‘ رنگاریڈی اور سنگاریڈی کی بھی یہی صورتحال ہے۔ نائٹ فرینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ فروری 2021 میں جائیدادوں کی فروخت جس طرح سے ریکارڈ کی گئی اس میں 64فیصد کی گراوٹ اس سال ہوئی ہے اور رہائشی اپارٹمنٹ کی فروخت میں گراوٹ رئیل اسٹیٹ شعبہ بالخصوص بلڈرس کیلئے تشویشناک ہے۔ ریاست کے 4 اضلاع میں سال گذشتہ کے اعتبار سے مجموعی طور پر 25 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں جائیدادوں کی خرید و فروخت میں گراوٹ کو دیکھتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ ماہانہ رجسٹریشن کی تعداد 5146 تک محدود رہ گئی اور ماہ فروری 2022 کے دوران 2722 کروڑ مالیت کی جائیدادوں کی خرید وفروخت ہوئی ہے ۔ماہ جنوری کے دوران شہر حیدرآباد میں 5568 رہائشی جائیدادوں کے رجسٹریشن کئے گئے تھے جن کی جملہ مالیت 2695 کروڑ رہی ۔ نائٹ فرینک کے تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ جائیدادوں کی قیمتو ںمیں اضافہ کے علاوہ رجسٹریشن کی فیس میں اضافہ کے سبب جائیدادوں کی فروخت میں کمی ریکارڈ کی گئی اور متوسط طبقہ کی جانب سے رہائشی جائیدادوں کی خریدی میں دلچسپی نہیں رہی جبکہ سال گذشتہ جنوری اور فروری میںجائیدادوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا تھا ۔ نائٹ فرینک کا کہناہے کہ شہر کی رئیل اسٹیٹ مارکٹ جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ کے اعتبار سے ملک بھر میں بہترین مارکٹ ثابت ہورہی ہے کیونکہ جائیدادوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن متوسط طبقہ کی جائیدادوں کی خریدی میں عدم دلچسپی اور قابل دسترس نہ ہونے کے سبب خریدی میں ریکارڈ گراوٹ دیکھی جانے لگی ہے۔م