شہر میں خاندانی رسہ کشی، تنازعات و قتل عام

   

نورخاں بازار واقعہ سب کیلئے عبرتناک، علماء و مشائخین، سیاسی و مذہبی تنظیموں کیلئے لمحہ فکر

حیدرآباد۔ 22 اپریل (سیاست نیوز) پرانے شہر کے علاقہ نور خاں بازار میں پیش آئے دوہرے قتل کی دلسوز واردات کے بعد شہریوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ شہر میں مسلسل پیش آرہی قتل کی وارداتیں مسلم سماج کے لئے لمحہ فکر ہے۔ کل رات میاں بیوی کے جنازوں کی تدفین عمل میں لائی گئی اور افراد خاندان کے علاوہ یتیم ہوئے چار کمسن بچوں نے اپنے والدین کے جنازوں کو الوداع کیا۔ باپ کے گھر آنے کے منتظر بچے ماں سے بار بار ابو کے بارے میں پوچھتے ۔ آنے کی اطلاع کا اصرار کرنے والے بچے دونوں ماں باپ کو کبھی واپس نہ آنے والی دنیا کے لئے روانہ کردیا۔ بے بس نانی کے یہاں موجود ان یتیم بچوں کی حالت دیکھ کر رشتہ دار، محلہ والے اور ہر وہ دل غم زدہ ہوگیا جو یتیمی کا دکھ برداشت کرچکا ہے۔ چار بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اُن ضعیف نانا نانی کے کندھوں پر آگئی جو خود بڑھاپے میں کسی سہارے کے منتظر ہیں۔ ایسا بچپن جہاں ہر ضد سے ماں کو راضی اور والد سے اپنی پسند کی چیز حاصل کی جاسکتی تھی اب یتیم بچوں کے مقدر سے وہ خوشی ہمیشہ کیلئے چھین لی گئی۔ خاندانی تنازعہ گھریلو جھگڑے رقمی لین دین، آپسی رسہ کشی خاندانی خصومت اور انا پرستی مسلم سماج کی تباہی اور رسوائی کا سبب بنتی جارہی ہے اور نہ جانے ایسی کئی زندگیاں تباہ ہوچکی ہیں جو ایسے معاملات کی زد میں آگئی۔ قوم و ملت کے رہنماؤں، ملی و مذہبی تنظیموں اور علماء و مشائخین اور سماج کے ذی اثر شخصیتوں کو ان حالات پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدام کرنا لازمی ہوگیا ہے۔ عقیل خاں کے یہ چار یتیم بچے اور ان کا بچپن جو یتیمی کے اندھیرے میں کھو گیا ہے ایک خاموش پیغام دے رہا ہے کہ کوئی تو اقدام کرے اور ایسے حالات سے دوسروں کو بچائیں۔ اس ضمن میں قائد مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خاں خالد نے ارباب مجاز سے مطالبہ کیا کہ وہ خاطی کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملت کو لاحق اس سنگین مسئلہ پر غیر سیاسی، سماجی، ملی مذہبی تنظیموں کا ایک بڑا مشاورتی اجلاس طلب کیا جائے گا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ عقیل خاں کے بچوں کے ساتھ انصاف کریں ۔ بچے جو نانا نانی کے یہاں ہیں انہیں ڈبل بیڈروم مکان فراہم کیا جائے چونکہ کرایہ کے مکان میں رہتے ہوئے چار بچوں کی پرورش کافی مشکل ہوگی۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ اندرون 90 دن چارج شیٹ داخل کرے اور فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلائیں۔ انہوں نے وکلا برادری سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ قتل کے مقدمہ کو لڑنے سے انکار کردیں۔ ع؍F