شہر میں قتل و غارت گری کے واقعات ‘ عوام میں عدم تحفظ کا احساس ۔ پولیس کی کارکردگی پر سوال

   

تحقیقات میں سی سی کیمروں و ڈیجیٹل آلات پر انحصار سے کارکردگی متاثر۔ میلاردیوپلی پولیس حدود میں قتل کی دوسری واردات سے سنسنی

حیدرآباد : /3 ستمبر (سیاست نیوز) پرانے شہر حیدرآباد کے حدود میں پیش آرہے قتل و غارت گری کے واقعات پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں ۔ اندرون 24 گھنٹے ایک اور قتل کی واردات سے پرانے شہر میں خوف و تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک ہی پولیس اسٹیشن حدود میں قتل کی دوسری واردات پیش آئی جو پولیس کی چوکسی اور دلچسپی پر شبہات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں ۔ آئے دن کسی نہ کسی علاقہ میں قتل عام بات بنتی جارہی ہے ۔ ایک طرف شہر کو ترقی دینے کے دعویٰ اور عالمی سطح پر شہر کی شناخت بنانے کی کوشش تو دوسری طرف شناخت بھی ایسی کے موتیوں کے شہر کا شمار اب جرائم کی فہرست میں کیا جانے لگا ہے ۔ امن کے شہر حیدرآباد کو غیر محفوظ شہر تصور کیا جانے لگا جو کہ سرکاری منصوبوں کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوگا ۔ آخر ان حالات کا ذمہ دار کون ہے ۔ کہیں نہ کہیں بلکہ بڑی حد تک شہریوں کا احساس ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور نچلی سطح کے اہلکاروں حالات کے ذمہ دار ہیں ۔ اکثر شہریوں کا ماننا ہے جو اپنے شہر کی بگڑتی حالات سے فکر مند ہے جب پولیس نے کیمروں و ڈیجیٹل آلات پر انحصار شروع کردیا وہ حالات کو بھانپنے میں بے بس دکھائی دے رہی ہے تو پھر ایسا ہوسکتا ہے کہ پولیس خود ہی نہیں چاہتی کہ حالات پرامن و پرسکون رہیں ۔ حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہئیے کہ وہ ان حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں ۔ سیاسی رکاوٹوں و سفارشوں کو بالائے طاق رکھ کر آپریشن کووچ ۔ کارڈن سرچ تک کارروائیوں کو محدود نہ رکھیں اور عوام دوست پالیسیوں سے عوام کے درمیان پہنچیں چونکہ پولیس کی موجودہ کارروائیاں خوف کا سبب بھی ثابت ہورہی ہیں جن کے ذریعہ اصل مجرمین پیشہ ور جرائم کو انجام دینے والے افراد آسانی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ مائیلاردیوپلی پولیس حدود میں کل رات ایک اور نوجوان کا قتل کردیا گیا ۔ جہانگیر آباد سے تعلق رکھنے والے عبدالرؤف پر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے قتل کردیا ۔ عبدالرؤف آٹو ڈرائیور تھا جو کل رات مائیلاردیوپلی حدود سے گزررہا تھا کہ حملہ کیا گیا ۔ اس واقعہ کی اطلاع کے بعد پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بشمول ڈی سی پی راجندر نگر زون سرینواس مقام واردات پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں واقعات میں قاتلوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائیگی ۔ انہوں نے بتایا کہ قاتلوں کو گرفتار کرنے کیلئے اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔ ع
راجیو راہداری کیلئے اراضی کے حصول پر ہائی کورٹ نے روک لگادی
حیدرآباد۔3 ۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے مجوزہ راجیو راہداری ایلیویٹیڈ کوریڈار پراجکٹ کیلئے اراضی کے حصول پر روک لگاکر احکام جاری کئے۔ جسٹس کے شرد نے اراضی کے حصول سے متاثر افراد کی درخواست پر سماعت کے بعد حصول اراضی کے عمل کو معطل کردیا ۔درخواست گزار نے 2013 کے اراضی حصول قانون کے تحت ان کی اراضیات حاصل کرنے پر اعتراض جتایا۔ متعلقہ کیسس میں ڈسمبر 2025 کو ہائی کورٹ نے جو عبوری احکامات جاری کئے ، ان کا حوالہ دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے درخواستوں کی مخالفت کی گئی اور بتایا گیا کہ سابق میں جاری کردہ حکم التواء کی برخواستگی کیلئے جوابی حلفنامہ داخل کیا گیا ہے۔ عدالت نے سابقہ احکامات کا جائزہ لیتے ہوئے عبوری حکم التواء جاری کیا اور ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے علاوہ وزارت دفاع اور سکندرآباد کنٹونمنٹ کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔1/k