شہر میں ٹی آر ایس کی جانب سے بڑے پیمانہ پر رقومات کی تقسیم

   

کانگریس پارٹی کا الزام، ترقی کیلئے عوام کانگریس کے ساتھ
حیدرآباد: کانگریس پارٹی نے بلدی انتخابات کی رائے دہی سے قبل ٹی آر ایس پر رقومات کی تقسیم کا الزام عائد کیا اور کہا کہ شہر کے کئی علاقوں میں ٹی آر ایس قائدین کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا ہے ۔ اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلگو دیشم قائدین نے گزشتہ 6 برسوں میں جو دولت کمائی ہے ، اسے انتخابات پر خرچ کیا جارہا ہے ۔ رائے دہندوں کو راغب کرنے کیلئے بھاری رقومات تقسیم کی جارہی ہے اور کئی مقامات پر عوام نے ٹی آر ایس قائدین کو رقومات کی تقسیم سے روک دیا ۔ ڈاکٹر شراون نے اس سلسلہ میں میڈیا میں دکھائی گئی ویڈیو کلپنگس کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی تائید سے محرومی کے سبب برسر اقتدار پارٹی دولت کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت اور طاقت کے بڑھتے استعمال کے نتیجہ میں غریب افراد کے لئے انتخابات میں مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن اور پولیس برسر اقتدار پارٹی کی بے قاعدگیوں کو روکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے کئی مسائل پر نمائندگی کی گئی لیکن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ الیکشن کمیشن اور پولیس حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے پولیس سے سوال کیا کہ کھلے عام رقومات کی تقسیم پر کیا کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کارکنوں کو چوکسی کے ساتھ رائے دہی کے دن بے قاعدگیوں پر نظر رکھنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میں عوام کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں کیونکہ حیدرآباد کی ترقی کانگریس دور حکومت کی دین ہے۔ حیدرآباد کے تمام اہم پراجکٹس کانگریس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے۔ رائے دہندوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کو سبق سکھائیں۔