حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے دو لائن مینوں کو معطل کردیا ہے اور دیگر پانچ کے خلاف وجہ نمائی نوٹس جاری کی ہے ۔ مذکورہ لائن مینوں پر الزام ہے کہ انہوں نے متعلقہ حدود میں جان بوجھ کر پانی کی سربراہی میں کمی کردی تھی جس کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کورٹ کے عہدیداروں کے مطابق کوتاہی کے سلسلہ قصوروار پائے گئے لائن مینوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ مقامی قائدین کی جانب سے لائن مینوں پر دباؤ بنائے جانے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ واٹر بورڈ میں نصف سے زائد لائن مین آوٹ سورسنگ ملازمین ہیں جو متعلقہ کارپوریٹرس اور ارکان اسمبلی سے قربت رکھتے ہیں۔ حال ہی میں پرنسپل سکریٹری بلدی نظم نسق دانا کشور نے پانی کی موثر سربراہی نہ کرنے پر لائن مینوں کو کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ حیدرآباد واٹر ورکس کے مطابق حیدرآباد اور اس کے اطراف روزانہ 2602 ملین گیالن پانی سربراہ کیا جاتا ہے جس میں عثمان ساگر سے 90.92 ملین گیالن ، حمایت ساگر 25.54 ملین گیالین ، سنگور 491.19 ملین گیالن ، کرشنا 1254.37 ملین گیالن اور گوداوری مرحلہ اول سے 740.27 ملین گیالن پانی حاصل کیا جاتا ہے ۔ 1