شہری اور دیہی ترقی کے 15 روزہ پروگرام کا 3 جون سے آغاز

   

کئی اسکیمات ملک کیلئے مثالی، وزراء ، کلکٹرس اور عہدیداروں کیساتھ چیف منسٹر کا جائزہ اجلاس

حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی سے متعلق پلے پرگتی اور پٹنا پرگتی پروگرام کے 3 جون سے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ پروگرام 15 دن تک ریاست کے تمام علاقوں میں جاری رہے گا۔ پرگتی بھون میں جائزہ اجلاس کے دوران ریاستی وزراء نے تجویز پیش کی کہ موسم گرما کے پیش نظر ریاستی سطح کے پروگرام کو 20 مئی کے بجائے آئندہ کسی تاریخ سے شروع کیا جائے ۔ چیف منسٹر نے وزراء اور عہدیداروں کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے 20 مئی کے بجائے 3 جون سے شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مشتمل پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ جائزہ اجلاس میں ریاستی وزراء ، میونسپل کارپوریشنوں کے میئرس ، ضلع کلکٹرس ، ایڈیشنل کلکٹرس ، چیف سکریٹری سومیش کمار اور مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ جائزہ اجلاس دن بھر جاری رہا جس میں 15 روزہ مہم کے دوران عمل کی جانے والی اسکیمات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دیہی علاقوں میں اسپورٹس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے 2 جون کو دیہی سطح پر گاؤں میں پلے گراؤنڈس کا آغاز کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جن گاؤں میں اسپورٹس کیلئے جگہ مختص کی گئی ہے ، ان کا باقاعدہ 2 جون کو آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو ذہنی دباؤ سے محفوظ رکھنے کیلئے اسپورٹس کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ریاست کے 19 ہزار گاؤں، 5000 وارڈس میں 24 ہزار دیہی اسپورٹس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ یہ کمیٹیاں گاؤں کی سطح پر کھیل کود کے مقابلوں کا اہتمام کریں گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کی ترقی ٹھپ ہوچکی تھی اور تلنگانہ کی تعمیر نو کا حکومت عہد کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات اور دشواریوں کا سامنا کرتے ہوئے تلنگانہ کو ملک کی مثالی ریاست بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی سرگرمیوں میں عوام کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہئے۔ شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی سے متعلق اسکیمات کی ملک بھر میں ستائش کی جارہی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بہتر ترقی کے معاملہ میں ملک کے جن دیہاتوں کا انتخاب کیا گیا ، ان میں ابتدائی 10 گاؤں تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسرے مرحلہ میں جن 20 گاؤں کا انتخاب ہوا ، ان میں 19 کا تعلق تلنگانہ سے ہے۔ چیف منسٹر نے دیہی ترقی کے معاملہ میں وزیر پنچایت راج دیاکر راؤ کی مساعی کی ستائش کی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے مثبت نتائج حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے ، عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کو سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ تلنگانہ میں پنچایت راج قانون کی تیاری پر مختلف گوشوں سے شبہات کا اظہار کیا گیا لیکن آج دیہی علاقوں کی ترقی دیکھ کر ہر کوئی ستائش کر رہا ہے ۔ ہر گاؤں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جنگلات کے تحفظ کے ذریعہ ماحولیات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ مشن بھگیرتا کے ذریعہ پانی کی سربراہی کی اسکیم ملک بھر میں مثال بن چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھر گھر صاف پینے کے پانی کی سربراہی اسکیم پر کامیابی کے ساتھ عمل کیا گیا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ کئی قومی ٹی وی چیانلس تلنگانہ کی ترقی کے بارے میں رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ مختلف ریاستوں کے قائدین فون پر مجھ سے ریاست کی ترقی کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ر