صحراء النجف میں مشکوک اسرائیلی اڈے کا انکشاف

   

بغداد ۔ 12 مئی (ایجنسیز) عراق کے صحراء النجف میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کرنے کی خبروں نے ملک میں سیاسی و عوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اڈہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ کے دوران ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا گیا، جس پر اب عراقی حکومت نے باقاعدہ ردعمل ظاہر کر دیا ہے۔ عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ مارچ میں عراقی فورسز کا نامعلوم گروہ کے ساتھ تصادم ہوا تھا جس کے بعد فضائی کور کی مدد سے ان نامعلوم دستوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا گیا۔حکومت نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اس وقت عراقی سرزمین پر کوئی غیر ملکی اڈہ یا افواج موجود نہیں ہیں۔عراقی افواج نے حشد شعبی کے ساتھ مل کر منگل کو صحراء￿ النجف اور کربلا میں ’فرضِ سیادت‘ کے نام سے ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے۔ حشد شعبی میں فرات اوسط آپریشنز کے کمانڈر میجر جنرل علی الحمدانی نے بتایا کہ یہ کارروائی چار مختلف محوروں سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد کربلا اور نخیب کے درمیانی راستے کو محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ آپریشن مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی ہدایات اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبد الامیر یار اللہ کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔عراقی وزارت دفاع کے مطابق آرمی چیف خود نخیب کے علاقے میں پہنچے ہیں تاکہ دفاعی تیاریوں اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔