ٹی آر ایس قائد یونس اکبانی کی ارکان اسمبلی کے ہمراہ چیف سکریٹری سومیش کمار سے نمائندگی
حیدرآباد۔22جولائی(سیاست نیوز) رعیتو بندھو اسکیم میں غیر قبائیلی طبقات کے اندراج کے اقدامات کے سلسلہ میں جناب یونس اکبانی قائد تلنگانہ راشٹر سمیتی نے رکن اسمبلی عادل آبادجوگورمنا ‘ رکن اسمبلی آصف آباد آترم سکو کے علاوہ دیگر کے ہمراہ چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار سے ملاقات کرتے ہوئے ان سے نمائندگی کی اور بتایا کہ جی او 1جو کہ 1970 میں جاری کیا گیا ہے اس جی او کے سبب غیر قبائیلی کاشتکار اور کسان رعیتو بندھو اسکیم کے استفادہ سے محروم ہورہے ہیں۔ جناب یونس اکبانی نے بتایا کہ ضلع عادل آباد میں غیر قبائیلی کسانوں کی جانب سے وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کرچکے ہیں اور چیف منسٹر نے تیقن دیا تھا کہ کونیرو رنگا راؤ کمیشن کی سفارشات پر مبنی رہنمایانہ خطوط کے ساتھ جاری کئے گئے جی او کی تنسیخ کے ذریعہ تمام کسانوں کو رعیتو بندھو اسکیم کے فوائد سے استفادہ کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ٹی آر ایس قائد نے کہا کہ ماضی میں ضلعی عہدیداروں کے علاوہ متعلقہ محکمہ جات کے عہدیدارو ںسے بھی متعدد مرتبہ نمائندگی کی جاچکی ہے۔چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار سے کی گئی نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے جو وعدہ عادل آباد کے کاشتکاروں سے کیا ہے اس وعدہ کی تکمیل کے لئے یہ نمائندگی کی جار ہی ہے۔جناب یونس اکبانی نے بتایا کہ 33ہزار ایکڑ سرکاری اراضیات جن پر کاشتکاری کا سلسلہ جاری ہے اس میں مجموعی اعتبار سے 9662 غیر قبائیلی کاشتکار پیداوار کو یقینی بنارہے ہیں لیکن وہ سرکاری فوائد سے محروم ہیں کیونکہ کونیرو رنگاراؤ کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر انہیں سرکاری اسکیمات کے استفادہ سے محروم رکھا گیا ہے جو کہ کاشتکاروں سے ناانصافی کے مترادف ہے۔کاشتکار صرف رعیتو بندھو اسکیم سے محروم نہیں ہورہے ہیںبلکہ ان کاشتکاروں کو پہانی کی عدم اجرائی کے سبب وہ اپنی پیداوار حکومت کو فروخت نہیں کر پا رہے ہیں جو کہ دوہرے نقصان کے مترادف ہے۔ضلع عاد ل آباد کے غیر قبائیلی آبادی کے مسائل کے سلسلہ میں کی گئی اس تفصیلی نمائندگی میں کاشتکاروں اور کسانوں کے مسائل کے ساتھ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے علاوہ گذشتہ 70برس سے ان اراضیات پر کاشت کرنے والوں سے انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدہ کے مطابق تمام غیر قبائیلی کسانوں کو جلد پٹہ جات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلہ میں ضلع کلکٹرسے بھی نمائندگی کی جاچکی ہے۔جناب یونس اکبانی نے بتایا کہ عادل آباد تلنگانہ کا سرحدی ضلع ہونے کے سبب پڑوسی ریاست مہاراشٹر ا سے تعلق رکھنے والے لمباڑہ طبقہ کے عوام عادل آبادمنتقل ہوتے ہوئے سرکاری فائدے حاصل کر رہے ہیں اور اس کے خلاف بھی ضلع میں گونڈ طبقہ جو کہ قبائیلی طبقہ ہے جدوجہد کر رہا ہے تاکہ ریاست تلنگانہ کے قبائیلی طبقات و غیر قبائیلی طبقات کو سرکاری اسکیمات میں ہونے والے نقصانات سے محفوظ رکھا جاسکے۔چیف سیکریٹری سومیش کمار نے اس نمائندگی پر مسائل کی جلد یکسوئی کا تیقن دیا۔م