خواتین کو ’’ دم گھٹنے‘‘ کی حد تک کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعویٰ
کابل : انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ طالبان کے گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد سے خواتین پر ’دم گھٹنے والے‘ کریک ڈاؤن کیے جس کی وجہ سے افغان خواتین اور لڑکیوں کی زندگیاں تباہ ہو گئی ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو بھی ختم کر دیا ہے۔ معمولی خلاف ورزیوں پر خواتین اور لڑکیوں کو حراست میں لیا جاتا ہے اور بچیوں کی شادیوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔رپورٹ میں طالبان کی جانب سے پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار کی گئی خواتین پر تشدد اور بدسلوکی کا بھی ذکر ہے۔’ایک ساتھ مل کر یہ پالیسیاں جبر کا ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہیں جو خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ان کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو میں امتیازی سلوک کرتی ہے۔ افغانستان کی خواتین کی آبادی کے خلاف یہ دم گھٹنے والا کریک ڈاؤن دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔‘واضح رہے کہ اگست 2021 میں دارالحکومت کابل پر قبضہ کرنے اور بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت کو معزول کرنے کے بعد طالبان نے خود کو اعتدال پسند کے طور پر پیش کیا تھا۔ابتدا میں طالبان حکام نے خواتین کو کام کرنے اور لڑکیوں کو تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دینے کی بات کی تھی۔ لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے ساتویں جماعت سے لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی اور خواتین کی کام تک رسائی کو محدود کر دیا ہے، جو تاحال برقرار ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محققین نے ستمبر 2021 سے جون 2022 تک نو ماہ کی طویل تحقیقات کے سلسلے میں رواں برس مارچ میں افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے پورے افغانستان میں 90 خواتین اور 11 لڑکیوں کے انٹرویو کیے جن کی عمریں 14 سے 74 سال کے درمیان تھیں۔