تیری بساط کیا ہے، یوں اترانا چھوڑدے
مانا کہ اپنے شہر میں تو مالدار ہے
ملک بھر میں طلباء برادری میں جو بے چینی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے وہ شائد حکومت کیلئے اچھی نہیں کہی جاسکتی کیونکہ گذشتہ ایک ماہ سے جنترمنتر پرجو احتجاج کیا جارہا تھا وہ اب شدت اختیار کرنے لگا ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے طلباء کی ناراضگی اور بے چینی کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کا کام کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں سارے ملک میں طلباء اور نوجوان ایسا لگتا ہے کہ حرکت میں آنے لگے ہیں اور وہ اپنے مسائل کو حل کروانا چاہتے ہیں۔ امتحانی پرچوں کے افشاء کے سلسلہ کو روکنا چاہتے ہیں اور حکومت کے ذمہ داروں میں بھی جوابدہی کا احساس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ طلباء چاہتے ہیں کہ ان کے مستقبل سے جو کھلواڑ ہو رہا ہے اس کو ختم کیا جائے ۔ انہیں بہتر تعلیمی مواقع فراہم کئے جائیں اور ایسا نظام تیار کیا جائے جس کے ذریعہ انہیںتعلیم حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہونے نہ پائے اور نہ ہی پرچوں کا افشاء کرتے ہوئے ان کے خواب چکنا چور کئے جائیں ۔ سی جے پی نے جنتر منتر پر جس وقت سٹ ان احتجاج شروع کیا تھا اور بعد میںجو ماحولیاتی جہد کار سونم وانگ چوک نے بھوک ہڑتال شروع کی تھی تو بہت کم گوشے ایسے تھے جنہیں یہ امید رہی ہوگی کہ یہ احتجاج ایک بڑا قومی مسئلہ بن جائے گا ۔ حکومت نے بھی اس تعلق سے مسلسل لاپرواہی کا رویہ اختیار کیا تھا ۔ ایک طرح سے اس احتجاج کو پوری طرح نظر انداز کردیا گیا ۔ اس کا نوٹ تک لینے کو حکومت تیار نہیں تھی ۔ بات چیت سے مسلسل گریز کیا گیا تھا ۔ تاہم جب جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کیا گیا تو حکومت اس کا نوٹ لینے پر مجبور ہوگئی اور اس نے طلباء کے نمائندوں کو بات چیت کیلئے مدعو بھی کیا ۔ طلباء نے اپنے مطالبات کو حکومت کے سامنے پیش کیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ حکومت نے اس کا جائزہ لینے کا تیقن دیا ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے جبکہ طلباء نے حکومت کا جواب آنے تک سٹ ان جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے ۔ طلباء نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے لیکن سونم وانگ چوک ہنوز بھوک ہڑتال پر ہیں ۔
جس طرح سے پارلیمنٹ مارچ نے حکومت کی آنکھیں کھول دی ہیں اور حکومت کو اس کا نوٹ لینا پڑا ہے اسی طرح سے اپوزیشن جماعتیں بھی ایسا لگتا ہے کہ اچانک ہی بیدار ہونے لگی ہیں۔ ویسے تو قائد اپوزیشن راہول گاندھی بھی گذشتہ چند ہفتوں سے طلباء کے مسائل پر جدوجہد شروع کرچکے ہیں ۔ انہوں نے اپنی مہم کو ’ ’ چھاتروں کی گونج ‘‘ کا نام دیا ہے ۔ وہ تعلیمی مرکز کوٹا پہونچے ۔ پھر دہرہ دون میں بھی انہوں نے احتجاج کیا اور اب وہ دہلی میں طلباء کے مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنے اقتدار کے زعم میں پوری طرح سے مبتلا ہے اور وہ طلباء کو بھی خاطر میںلانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ حکومت نے اپوزیشن کی آواز کو دبانے کیلئے جس طرح سے مرکزی ایجنسیوں کا استعمال کیا ہے اور خوف کا ماحول پیدا کیا تھا وہ طریقہ کار طلباء کے احتجاج میں کارآمد ثابت نہیں ہو رہا ہے ۔ طلباء مقدمات سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کے کوئی کالے کرتوت نہیں ہیں ۔ ان کو ای ڈی سے یا سی بی آئی سے ڈرایا نہیں جاسکتا ۔ ایسے میں حکومت کو لاپرواہی والا رویہ ترک کرنا ہوگا ۔ وزیرا عظم کو اس مسئلہ پر آگے آکر بیان دینا چاہئے ۔ انہیں نیٹ پرچہ افشاء معاملہ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ جو طلباء خود کشی کرچکے ہیں اس پر ان کے والدین سے معذرت خواہی کرنی چاہئے اور طلباء میں اعتماد کی فضاء پیدا کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
لاپرواہی والا رویہ خود حکومت کیلئے مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور طلباء کے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو ہٹ دھرمی والا رویہ بھی ترک کرنا ہوگا ۔ خود وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو اس سارے معاملہ کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ انہیں طلباء کے مستقبل اور ان کی زندگیوں کی پرواہ کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر آگے آنا اور استعفی پیش کرنا چاہئے ۔ حکومت اس معاملے پر اگر سنجیدہ نہیں ہوتی ہے تو اسے اپنی لاپرواہی اور تغافل کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے ۔