روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروح
ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں
جنوبی ریاست ٹاملناڈو میں انتخابی عمل مکمل ہوچکا ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کو بھی برخواست کردیا گیا ہے ۔ ٹاملناڈو میں تشکیل حکومت کا عمل تعطل کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ گورنر مسٹر ارلیکر نے واحد بڑی جماعت ٹی وی کے کو تشکیل حکومت کی دعوت دینے سے گریز کیا ہے ۔ گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے وجئے نے انتخابات میں کامیابی سے واقف کروایا اور تشکیل حکومت کا دعوی پیش کیا تھا ۔ گورنر نے ان کو مطلع کیا ہے کہ ان کی پارٹی ٹی وی کے کے پاس درکار اکثریت نہیں ہے اس لئے انہیں تشکیل حکومت کی دعوت نہیںدی جا رہی ہے ۔ در اصل یہ عوامی فیصلے کی عدم تعمیل کے مترادف ہے کیونکہ ٹاملناڈو کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ وجئے کی پارٹی کو واحد بڑی جماعت کا موقف دیا ہے اور اس نے 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستوں پر کامیابی درج کی ہے ۔ اسے کانگریس کے پانچ ارکان کی تائید بھی حاصل ہوچکی ہے ۔ امید کی جا رہی ہے کہ سی پی آئی اور سی پی ایم کی جانب سے بھی وجئے کی تائید کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ کچھ آزاد امیدوار بھی حکومت کی تائید میںآگے آسکتے ہیں اس کے باوجود گورنر کی جانب سے وجئے کو تشکیل حکومت کی دعوت سے گریز کرنا باعث حیرت ہی کہا جاسکتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کا یہ استدلال ہے کہ حکومت کی اکثریت ثابت کرنے کیلئے ایوان اسمبلی ہے ۔ لوک بھون میں کسی حکومت کی اکثریت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ایک مروجہ طریقہ کار بھی ہے کہ گورنر کی جانب سے اسمبلی انتخابات کی صورت میںیا پھر یا عام انتخابات کی صورت میں صدر جمہوریہ کی جانب سے واحد سب سے بڑی جماعت یا واحد سب سے بڑے ماقبل انتخاب اتحاد کو تشکیل حکومت کی دعوت دی جاتی ہے ۔جو روایت رہی ہے اس کے مطابق سب سے بڑی جماعت گورنر یا صدر جمہوریہ کی ہدایت پر حکومت تشکیل دیتی ہے اور پھر حکومت کو کچھ دن کا وقت دیا جاتا ہے کہ وہ ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کردکھائے ۔ اگر کوئی اکثریت ثابت کرنے میںنام رہے تو استعفی پیش کردیا جاتا ہے ۔ ایسی کئی مثالیں ماضی کی موجود ہیں جب واحد بڑی جماعت کو حکومت سازی کا موقع دیا گیا تھا ۔
ہندوستان میں جب پہلی مرتبہ اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم بنے تھے اس وقت بھی بی جے پی کو مرکز میں اکثریت حاصل نہیں تھی ۔ 1996 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد بی جے پی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی ۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے اٹل بہاری واجپائی کو حکومت بنانے کی دعوت دی تھی ۔ 16 مئی تا 28 مئی 1996 اٹل بہاری واجپائی ملک کے وزیر اعظم رہے ۔ اس دوران وہ اپنی حکومت کیلئے درکار ارکان کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے ۔ تحریک اعتماد پر لوک سبھا میں جو مباحث ہوئے تھے وہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ مباحث کا جواب دیتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی نے اعلان کردیا تھا کہ چونکہ انہیں درکار تائید حاصل نہیں ہے اس لئے وہ صدر جمہوریہ کے پاس جا رہے ہیں تاکہ اپنا استعفی پیش کرسکیں۔ یہ ہندوستان کی انتخابی اور سیاسی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے ۔ یہاںصدر جمہوریہ ہند نے واحد بڑی جماعت کو تشکیل حکومت کی دعوت دی تھی ۔ اسی طرح ٹاملناڈو میں وجئے کی پارٹی واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور دوسری کوئی جماعت اس کے قریب بھی نہیں پہونچ پائی ہے ۔ ایسے میں امید کی جا رہی تھی کہ گورنر کی جانب سے وجئے کو تشکیل حکومت کی دعوت دی جائے گی تاہم ایسا ہوا نہیں ہے ۔ گورنر درکار ارکان کی تائید حاصل کرکے دوبارہ رجوع ہونے کی ہدایت دے رہے ہیں جبکہ حکومت کی اکثریت ثابت کرنے کیلئے لوک بھون نہیں ایوان اسمبلی موجود ہے ۔
ٹاملناڈو کے عوام نے انتخابات میںرائے دہی کے ذریعہ جو فیصلہ دیا ہے اس کی نفی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور عوامی فیصلے پر عمل سے گریز کیا جا رہا ہے جو ملک کی انتخابی سیاست کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ جو مروجہ اصول اور روایات ہیں ان کے مطابق فیصلہ کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ وجئے کی پارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس مسئلہ پر عدالت سے رجوع ہوگی ۔ وجئے کی پارٹی کو ایسا کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ تاہم اس مسئلہ کو عدالت تک پہونچنے سے روکا جاسکتا تھا اور اسے روکا جانا چاہئے تھا ۔ جمہوریت میں عوام کا فیصلہ ہے سب سے مقدم ہوتا ہے اور اسی فیصلے پر عمل آوری میں رکاوٹ افسوسناک ہے ۔