نیویارک: اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور مالیاتی کمیٹی نے دو قراردادوں کی منظوری دی ہے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لبنان اور شام کو سطح سمندر پر تیل کی تہہ کا معاوضہ اور فلسطینیوں کو ان کے قدرتی وسائل پر خودمختاری دے۔امریکہ، ارجنٹائن، کینیڈا، اسرائیل، مائیکرونیشیا، ناورو اور پلاؤ نے دونوں قراردادوں کے خلاف ووٹ دیا۔سطح سمندر پر تیل کی تہہ 2006 میں بن گئی تھی جب اسرائیلی فضائیہ نے جیاہ برقی پاور پلانٹ کے قریب سٹوریج ٹینکوں کو نشانہ بنایا جس سے لبنان کی ساحلی پٹی کا دو تہائی حصہ تیل سے ڈھک گیا۔قرارداد کا مسودہ یوگنڈا کے نمائندے نے پیش کیا جس سے حیاتیاتی تنوع اور مقامی معیشت پر اس تہہ کے تباہ کن اثرات نمایاں ہوئے۔قرارداد میں لبنان کی طویل مدتی پائیدار ترقی پر اس واقعے کے منفی اثرات پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی “گہری تشویش” کا اعادہ اور اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کی توثیق کی گئی کہ 2014 میں ملک کو 856.4 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا۔قرارداد کو سات کے مقابلے میں 161 ووٹوں سے منظور کیا گیا جب کہ نو ارکان نے حصہ نہیں لیا۔ اس میں اسرائیل سے لبنان اور شام کیلئے “فوری اور مناسب معاوضے” کا مطالبہ کیا گیا۔لبنان کے نمائندہ نے اقوامِ متحدہ، عالمی بینک اور دیگر جگہوں پر اپنے ملک کے حامیوں کا شکریہ ادا کیا۔