فلسطینیوں کیلئے ممنوعہ مقامات کا اسرائیل نے نقشہ جاری کیا

   

تل ابیب: اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق 08:30 بجے نافذ ہونے سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے ان مقامات کا نقشہ شائع کیا ہے جہاں غزہ میں فلسطینیوں کو جانے سے منع کیا گیا ہے ۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے غزہ پٹی کے رہائشیوں کو ہفتے کے روز جنوبی غزہ سے شمال کی طرف یا نیٹزارم روڈ کی طرف جانے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اب بھی خطرناک ہے ۔انہوں نے “ایکس” پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ معاہدے کی بنیاد پر اسرائیلی فوج غزہ پٹی کے مخصوص علاقوں میں تعینات رہے گی، فوج کے قریب آنے کے خلاف انتباہ کیا جائے گا۔انہوں نے رفح کراسنگ کے علاقے ، فلاڈیلفی کوریڈور اور جہاں اسرائیلی فوج تعینات ہے ان تمام علاقوں تک پہنچنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا۔اویچائی نے کہا کہ پٹی کے ساتھ سمندری علاقے میں ماہی گیری، تیراکی اور غوطہ خوری ک خطرناک ہوسکتی ہے ۔ ہم آنے والے دنوں میں سمندر میں داخل ہونے کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی علاقے اور بفر زون کے قریب جانا منع ہے اور یہ بہت خطرناک ہے ۔اپنی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ “ہم غزہ معاہدہ اس وقت تک شروع نہیں کریں گے جب تک کہ ہم ان مغویوں کے نام حاصل نہیں کر لیتے جنہیں کل رہا کیا جائے گا”۔انہوں نے کہا کہ تل ابیب غزہ معاہدہ کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ذمہ داری تنہا حماس پر عائد ہوتی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ یہ معاہدہ چہارشنبہ کو قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی کی کوششوں کے بعد طے پایا تھا۔معاہدہ میں تین مراحل شامل ہیں۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے ، اس دوران 33 اسرائیلی قیدیوں، جن میں خواتین، بچے ، بوڑھے اور بیمار شامل ہیں کو متعدد فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔معاہدہ میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلاء کی شرط بھی رکھی گئی ہے ۔