یادو طبقہ کے ساتھ انصاف ، سدرسمیلن سے چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔27 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ مختلف گوشوں سے شہر کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوششوں کے باوجود شہر حیدرآباد کے علاوہ چوتھے شہر ’فیوچر سٹی ‘ کی ترقی کے لئے اقدامات کو یقینی بنارہی ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی جامع ترقی کے ذریعہ شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج ’’سدر سمیلن‘ ‘ میں شرکت کے دوران یادو طبقہ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالا ت کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے طاس میں رہنے والوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں وہ سابق میں کسی حکومت نے نہیں کئے اور نہ ہی کسی حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے احیاء کے اقدامات کا آغاز کیاگیا لیکن ریاست میں کانگریس حکومت نے اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد موسیٰ ندی کے احیاء کے ذریعہ موسیٰ ندی کے طاس میں رہنے والوں کی زندگی میں بہتری لانے کے علاوہ ندی کے دونوں جانب شہریوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانے اور انہیں روزگار کی فراہمی کے اقدامات کے سلسلہ میں کاروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرتے ہی ریاست کی مجموعی ترقی کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں اور حکومت بہر صورت اپنے منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بنائے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اپوزیشن اور بعض گوشوں کی جانب سے ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے جو کہ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس تمام طبقات کی یکساں ترقی کے حق میں ہے اور اسی لئے کانگریس نے اقتدار میں آتے ہی یادو طبقہ سے تعلق رکھنے والے انیل کمار یادو کو رکن راجیہ سبھا نامزد کیا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اگر حلقہ اسمبلی مشیر آباد سے انجن کمار یادو کامیاب ہوجاتے تو یقینا وہ ریاستی کابینہ میں شامل کرلئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوپایا اس کے باوجود کانگریس نے سماجی انصاف کے تقاضوں کو نظر میں رکھتے ہوئے انیل کمار یادو کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے ’’سدر میلہ‘‘ کو ریاستی حکومت کی جانب سے ریاستی تہوار کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں پہلے ہی احکامات جاری کئے جاچکے ہیں اور یادو طبقہ تلنگانہ کی ترقی میں جو کردار ادا کر رہا ہے اسے نظر میں رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس تہوار کو اضلاع میں بھی منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہو ںنے یادو طبقہ کے موسیٰ ندی سے تعلق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یادو طبقہ جو کہ مویشی پالن اور مویشیوں کو دی جانے والی گھاس پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور موسیٰ ندی کے طاس میں یہ کاشت کی جاتی ہے۔ انہوں نے موسیٰ ندی کے احیاء کیلئے یادو طبقہ کی مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون کے ذریعہ موسیٰ ندی کو ترقی دینے کے اقدامات یقینی بنائے جاسکتے ہیں۔چیف منسٹر نے کہا کہ موسیٰ ندی کو آلودگی کے مرکز میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اگر اب اس کی صفائی نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ گندگی شہر کو تباہ کرنے کا سبب بن جائے گی اسی لئے یادو طبقہ کو موسیٰ ندی کی صفائی اور احیاء کے علاوہ شہر کی ترقی میں اپنا مکمل تعاون پیش کرنا چاہئے ۔3