نادر کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن کا منصوبہ، نئے فرنیچر اور دیگر عصری سہولتوںکے اقدامات
حیدرآباد۔/13 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے حیدرآباد کی تاریخی اور قدیم اسٹیٹ سنٹرل لائبریری افضل گنج کی ترقی کا جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت لائبریری کی عمارت کی مرمت و تزئین نو کے علاوہ کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن کا کام انجام دیا جائے گا۔ نظام دور حکومت کی 131 سالہ قدیم یہ لائبریری سابق میں آصفیہ لائبریری کے نام سے مشہور تھی جہاں 5 لاکھ سے زائد کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے جن میں سے زیادہ تر نادر اور نایاب کتابیں ہیں۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی(HMDA) اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے پراجکٹ میں اہم رول ادا کرے گا جس کے تحت عمارت کی مرمت اور تزئین نو، نئے فرنیچر کی فراہمی، کتابوں کے ریکس کی تعمیر اور اندرونی حصوں کو خوبصورت بنانے کا کام انجام دے گا۔ ریڈنگ روم کو بحال کیا جائے گا۔ ان کاموں پر تقریباً 1.8 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ لائبریری کی عمارت 72247 مربع گز پر محیط ہے اور عمارت کے تحفظ کے علاوہ لائبریری کے احاطہ میں ایک کیفے تیار کی جائے گی اور پارکنگ اسپیس میں اضافہ کیا جائے گا۔ لائبریری کی موجود خستہ حال ریکس اور قدیم فرنیچر کے باعث کتابوں کے تحفظ میں دشواری ہورہی تھی۔ ہیرٹیج کے ماہرین نے اس تاریخی عمارت کے تحفظ اور کتابوں کی حفاظت پر زور دیا ہے جہاں موجود کتابیں عربی، اردو، فارسی، ہندی، تلگو، سنسکرت اوردیگر زبانوں میں ہیں۔ انٹیک کی جانب سے عمارت کو ہیرٹیج ایوارڈ 1998 میں دیا گیا۔ کتابوں کے بعض کلکشن کو تحفظ کیلئے سالار جنگ میوزیم منتقل کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 50 ہزار کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن کا کام مکمل کرتے ہوئے کمپیوٹرائزڈ کیا گیا۔ کئی خستہ کتابوں کی بحالی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ر
ممتاز ماہر تعلیم سید حسین بلگرامی نے کتب خانہ آصفیہ 1891 میں عابڈز کے علاقہ میں قائم کیا تھا بعد میں اسے 1936 میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی سلور جوبلی کے موقع پر افضل گنج منتقل کیا گیا۔ پراجکٹ کی جملہ مالیت تقریباً 2 کروڑ بتائی جاتی ہے۔ر