قرآن اور صاحب قرآن

   

ڈاکٹر سید حسام الدین

جب دنیا میں بت پرستی ، شراب نوشی ،زناکاری ، بدکاری اور بے حیائی و مشرکانہ عمل کا چال چلن عام ہوجاتا ہے ، ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ انسانوں کی تربیت اور ہدایت کیلئے پیغمبروں ، نبیوں اور رسولوں کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے تاکہ اﷲ تعالیٰ کی وحدت کی تبلیغ بندہ کو خالق سے جوڑنے کا کام انجام پائے ۔ جہاں تک اﷲ کے رسولوں کی تعداد کا تعلق ہے اس کا صحیح علم صرف اﷲ ہی کی ذات کو ہے البتہ قرآن کریم میں جملہ (۲۵) انبیاء و رُسل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ دستیاب معلومات کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے (۱۰۴) صحائف اور کتابیں نازل فرمائی ۔ جہاں تک آسمانی کتابوں کا تعلق ہے ان میں سے صرف (۴) آسمانی کتابیں دستیاب ہیں ۔ ان کی تفصیل اس طرح ہے : (۱) توریت جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی (۲) زبور حضرت داؤد پر نازل ہوئی اور (۳) انجیل حضرت عیسیٰ ؑ پر نازل ہوئی ۔ چوتھی اور آخری کتاب قرآن مجید ہے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی ۔
مذکورہ چار آسمانی کتابوں میں اﷲ تعالیٰ نے صرف قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے ۔ قرآن مجید اپنے نزول کی تاریخ سے تاقیامت خالص حالت میں رہے گی باقی ماندہ تینوں آسمانی کتاب اپنی اصلی حالت میںموجود نہیں ہیں۔ زمانہ کے ساتھ ساتھ اُن کے ماننے والوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر تبدیلیاں لاتے رہے ۔قرآن کریم بالکل جوں کی توں اسی حالت میں ہے جسے اﷲ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کی وساطت سے رسول کریم ﷺ پر نازل فرمایا تھا ۔
لفظ قرآن عربی ہے جو قرآن سے مشتق ہے جس کے معنی پڑھنا اور تلاوت کرنا ہے ۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ قرآن انسانوں کو نیکی ، عدل ، سچائی اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے ۔ قرآن پاک اﷲ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جو انسانی زندگی کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ قرآن شریف میں قصص و واقعات کا بیش بہا خزانہ موجود ہے ۔ قران حکیم آسمان دنیا پر نزول سے قبل لوح محفوظ پر تھا ۔ قرآن مجید کا نزول ماہِ رمضان میں شب قدر کے موقعہ پر ہوا ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : إِنَّا أَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِo (سورۂ قدر ) آنحضرتؐ کی عمر شریف جب (۴۰) سال کو پہنچی آپؐ پر قرآن نازل ہوا ۔
اﷲ تعالیٰ نے دوسری آسمانی کتابوں کی طرح قرآن مجید کو ایک ہی بار نازل نہیں کیا بلکہ اسے (۲۳) سال کی مدت میں موقعہ و محل کی مناسبت سے نازل فرمایا ۔ آپ ﷺ بعثت سے قبل غارِ حرا میں فکر و استغراق میں رہتے تھے ۔ اسی دوران ماہِ رمضان المبارک میں آپؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی ، حضرت جبریل ، اﷲ تعالیٰ کا پیغام لیکر حاضر ہوئے اور سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیتیں نازل ہوئیں ۔ ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ o آپ ؐ کا قرآن مجید سے اس قدر اٹوٹ رشتہ تھا کہ آپؐ کو قرآن ناطق ، جامع القرآن ، عامل قرآن کہا جاتا ہے۔ آپؐ کی حیات مبارکہ مرقع قرآن تھی ۔ قرآن مجید فرمان اور حکم الٰہی ہے ۔ آپؐ نے احکام الٰہی کو اپنی سنت کے ذریعہ نافذ فرمایا ۔ آپ کی زندگی قرآن کی منہ بولتی تصویر تھی ۔حضورؐ کی زندگی میں قرآن کی اہمیت کا اندازہ آپ کے آخری خطبہ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا : ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ جارہا ہوں تم ہرگز نہ بھٹکوگے جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہوگے ۔ اﷲ کی کتاب اور رسولؐ کی سنت ‘‘ ( موطا ، مالک ، مشکوٰۃ )
حضور سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق مبارکہ کے بارے میں کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا آپؓ نے فرمایا ’’قرآن پڑھو رسول اﷲ کے اخلاق معلوم ہوجائیں گے ‘‘ ۔ رسول پاک ﷺ کا قرآن مجید سے تعلق اس طرح تھا جیسا کہ روح کا جسم سے ۔ آپؐ کی مبارک زندگی قرآن کی تفسیر ہے ۔
قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے جہاں کہیں بھی آپؐ کے اسماء گرامی یا اوصاف حمیدہ کا ذکر کیا ہے وہاں یٰاَیُّهَا النَّبِیُّاور یٰاَیُّهَا الرَّسُوْلُ کہہ کر مخاطب کیا اور کوئی ۲۵ سورتوں میں آپؐ کا ذکر ہے جبکہ ۲۷ مختلف ناموں سے کوئی ۲۸ سورتوں میں یاد فرمایا گیا ۔جب قرآن نازل ہوا تو شہر مکہ میں صرف ۱۷ اشخاص کتابت سے واقف تھے ان میں (۴) خواتین بھی شامل تھیں جو لکھنا جانتی تھیں ۔مدینہ شریف میں حضور ﷺ کے اولین کاتب وحی حضرت ابی ؓ بن کعب تھے جب یہ نہ ہوتے تو آپ زیدؓ بن ثابت سے لکھواتے ۔ مکی اور مدنی سورتیں : آپؐ کے مکی دور میں ہجرت سے قبل جو سورتیں نازل ہوئیں وہ مکی اور جو ہجرت کے بعد مدنی دور میں نازل ہوئیں وہ مدنی کہلائیں۔ قرآن مجید کی کل ۱۱۴ سورتیں ہیں۔ مکی دور کی سورتوں کی تعداد ۸۶ اور مدنی کی ۲۸ ہیں۔ رسول پاکؐ سے بے شمار صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک حفظ کیا اور کاتبین نے اسے اپنے پاس لکھ کر محفوظ کرلیا ۔ آپؐ کا وصال ہوا تو اُس وقت مختلف صحابہ کے پاس پورا قرآن لکھا ہوا موجود تھا ۔ حضرت ابوبکر ؓ کے دور میں جنگ یمامہ کے دوران بہت سے حفاظ اور قراء شہید ہوگئے ۔ باہمی فیصلہ کے تحت حضرت ابوبکر ؓ نے اس کام کیلئے مشہور حافظ وقاری اور کاتب وحی حضرت زید بن ثابت انصاری ؓ کو منتخب کیا ۔ انھوں نے مختلف صحابہ کے اشتراک سے ان اجزاء کو اکٹھا کرکے ایک مصحف میں جمع کردیا ۔ چونکہ قرآن مجید آپؐ پر نازل ہوا اس لئے آپؐ کو صاحبِ قران بھی کہا جاتا ہے ۔

قرآن کا یہ سرکاری اور مصدقہ نسخہ حضرت ابوبکرؓ کے پاس رہا پھر ان کے بعد حضرت عمرؓ کے پاس ایا ۔ حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد اُم المؤمنین حضرت حفصہ بن عمرؓ کے پاس آیا ۔ ( ہدیٰ ڈائجسٹ )