وادی میں سخت اقدامات کا دعوی، دنیا کو غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش، فوج کے سربراہ راوت کا ادعاء
رام گڑھ (جھارکھنڈ)۔ 25 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اس بات کی ایکبار پھر تصدیق کی ہے کہ وادی کشمیر میں لوگ آزادانہ طور پر گھوم پھر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ وادی تمام بالکل بند ہے اور تمام سرگرمیاں ٹھپ ہیں وہ ایسے لوگ ہیں جن کی بقا کا دارومدار دہشت گردی پر ہے۔ جنرل راوت پنجاب رجمنٹ کی 30 ویں بٹالین کو صدر جمہوریہ ہند کے اعزازات کی تقسیم عمل میں لانے کے بعد اخبارنویسوں سے بات چیت کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر کی معمول کی زندگی متاثر نہیں ہوئی ہے۔ لوگ اپنے ضروری امور انجام دے رہے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کام کاج رکا نہیں ہے اور لوگ آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ گارا مٹی اور اینٹ سازی کا کام معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ لوگ ریت کی حمل و نقل عمل میں لارہے ہیں۔ دکانیں کھلی ہوئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادی میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ تاہم فوج کے سربراہ نے اس سوال کے جواب سے گریز کیا کہ خط قبضہ پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں منگل کے زلزلے کے بعد لوگوں کو کئی مصیبتوں کا سامنا ہے۔ منگل کے دن 5.8 درجہ کے زلزلے نے مقبوضہ کشمیر پر ضرب لگائی۔ اس زلزلے میں کم سے کم 26 لوگ مارے گئے اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ فوج نے منگل کے دن فضائی تصاویر جاری کی ہیں اور ایک ویڈیو بھی جاری کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’پھلوں کی باربرداری اور کھیتوں میں کام جاری اور لوگ امان کے ساتھ جموں و کشمیر میں گھوم پھر رہے ہیں۔‘‘ تحدیدات خصوصاً مواصلات پر ابھی تک نافذ ہیں۔ راوت میں جموں و کشمیر پر نافذ سختیوں سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ دہشت گردوں کی جانب سے ہندوستان کی غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تشدد اور ہلاکتوں کا سلسلہ رک چکا ہے اور دہشت گردوں کو وادی سے دور کردیا گیا ہے۔