مارواڑی یونیورسٹی نے اسرو آئی ٹی سی کے ساتھ معاہدہ کیا

   

بنگلورو: طلبہ کی اختراع کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے تحت گجرات حکومت سے سنٹر آف ایکسیلنس (سی او ای) کے طور پر تسلیم شدہ سب سے بڑے ادارے مارواڑی یونیورسٹی (ایم یو) نے جمعہ کو انڈین ٹیکنالوجی کانگریس ایسوسی ایشن (آئی ٹی سی اے ) ۔ کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کئے ۔ اس کا مقصد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن(اسرو) کے ساتھ مل کر 75 اسٹوڈنٹ سیٹلائٹ مشن 2022 کے تحت طلباء کے تیار کردہ سیٹلائٹوں کو مدار میں تیار اور لانچ کرنا ہے ۔ یونیورسٹی ہی میں 1.9 کروڑ روپے کی فنڈنگ سے یونیورسٹی میں ہی ایک خصوصی خلائی لیبارٹری قائم کی جائے گی۔ یہ گجرات سے لانچ کیا جانے والا پہلا اسٹوڈنٹ سیٹلائٹ ہوگا۔ اس مشن کے تحت ایم یو کے طلباء اور اساتذہ کے ذریعہ بنائے جانے والے سیٹلائٹ کا وزن 1300 گرام اور پے لوڈ 260 گرام ہوگا۔ مشن کا مقصد طلباء کو اس بارے میں تعلیم دینا ہے کہ کس طرح اسمال سیٹ کو ڈیزائن، تیار، تعمیر، انضمام، ٹیسٹ، لانچ اور مانیٹر کرنا ہے ۔ ایم یو آزادی کے امرت کا جشن منانے کے لیے 75 سٹیلائٹس لانچ کرنے کا تصور کرتا ہے ، جس میں 75 قابل ذکر ادارے اپنے طلبہ کے بنائے ہوئے اسمال سیٹس تیار کر رہے ہیں۔ یہ تعاون بڑھتی ہوئی خلائی ٹیکنالوجی کی صنعت کی طرف سے طلباء کو پیش کیے گئے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق ہندوستان کے خلائی شعبے کی مالیت 2020 میں 447 ارب ڈالر کی عالمی خلائی معیشت میں سے صرف 7 ارب ڈالر ہے اور اس میں روزگار اور کاروباری صلاحیت کے وسیع امکانات ہیں۔