حافظ محمد صابر پاشاہ
ماہِ ربیع الثانی اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے۔ ’’ربیع‘‘ بہار اور ’’ثانی‘‘ دوسرے کے معنی میں ہے۔ اسلامی مہینوں کے نام رکھے جانے کے زمانے میں موسمِ ربیع کی مناسبت سے اس کا نام ربیع الآخر رکھا گیا، تاہم ربیع الاول کی مناسبت سے عوام و خواص میں ربیع الثانی کا نام زیادہ معروف ہوگیا۔ماہِ ربیع الثانی کو اہلِ محبت و عقیدت امام الاولیاء، غوث الاغواث، حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت سے بھی یاد کرتے ہیں۔ حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی علم، تقویٰ، عبادت، اخلاص، توکل، شریعت کی پابندی اور خدمتِ خلق سے عبارت ہے۔ ربیع الثانی کے ایام میں کثرت سے استغفار کرنا چاہیے۔ انسان خواہ کتنا ہی نیک بننے کی کوشش کرے، اس سے خطائیں سرزد ہوسکتی ہیں۔ اسی لیے توبہ و استغفار مؤمن کی زندگی کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔’’اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ‘‘ کا ورد انسان کو اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اسی طرح کثرت سے درود و سلام پڑھنا محبتِ رسول ﷺکو تازہ کرتا ہے۔ ماہِ ربیع الثانی کو اپنی زندگی کی اصلاح کا مہینہ بنانے کے لیے چند عملی امور اختیار کیے جاسکتے ہیں:٭ پانچوں نمازوں کی پابندی کریں۔نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں۔٭ روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت کریں۔٭ کثرت سے درود شریف پڑھیں۔٭استغفار کریں۔٭ صدقہ و خیرات کریں۔٭ حقوق العباد ادا کریں٭زبان کی حفاظت کریں٭ دلوں کو صاف کریں٭خاتمہ بالخیر کی دعا کریں۔ ماہِ ربیع الثانی ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے آئینے میں خود کو دیکھیں۔مہینے آتے اور جاتے رہیں گے، لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ساتھ کتنے بہتر انسان بن رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہِ ربیع الثانی کی برکتوں سے مستفید فرمائے، نوافل و اذکار کی توفیق عطا فرمائے، قرآنِ کریم سے سچی محبت نصیب فرمائے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اتباع سے ہمارے دلوں کو منور فرمائے، بزرگانِ دین کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق دے، ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری پریشانیوں کو دور فرمائے، ہمارے گھروں میں امن و سکون اور رزق میں برکت عطا فرمائے اور سب سے بڑھ کر ہمیں ایمان، عافیت اور خاتمہ بالخیر کی دولت سے سرفراز فرمائے۔آمین بجاہِ سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔