مجھے یومیہ دو تین کیلو گالیاں کھانے کو ملتی ہیں۔ وزیر اعظم

   

حیدرآباد 12 نومبر ( سیاست نیوز ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ انہیں یومیہ دو تین کیلو گالیاں کھانے کو ملتی ہیں لیکن وہ اس سے مایوس نہیں ہوتے ۔ بیگم پیٹ ائرپورٹ پر بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ اتنی زیادہ محنت کے باوجود وہ تھکتے کیوں نہیں ۔ میرا جواب یہ ہے کہ میں اس لئے نہیں تھکتا کیونکہ مجھے ہر روز دو تا تین کیلو گالیاں کھانے کو ملتی ہیں۔ اوپر والے نے انہیں اس طرح سے ڈھالا ہے کہ وہ ان گالیوں ( تنقیدوں ) کو اپنی غذا بناتے ہیں اور اسے مثبت انداز میں لیتے ہیں۔ نریندر مودی نے بالواسطہ طور پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کوئی مودی پر تنقید کرسکتا ہے ‘ بی جے پی پر تنقید کرسکتا ہے لیکن اگر تلنگانہ کے عوام کو نشانہ بنایا گیا تو پھر اس کی بھاری قیمت چکانی پڑسکتی ہی ۔ وزیر اعظم نے تلنگانہ بی جے پی کے کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کارکنوں سے شخصی درخواست کرتے ہیں۔ کچھ لوگ مایوسی کے عالم میں خوف کے عالم میں یا پھر توہم پرستی میں مودی کو تنقیدوں کا نشانہ بنائیں گے ۔ کارکنوں کو اس شکار نہیں ہونا چاہئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گذشتہ 20 – 22 سال میں انہیں طرح طرح کی گالیاں سننے کو ملی ہیں۔ تنقیدوں اور گالیوں کی ان ( اپوزیشن ) کی ڈکشنری ختم ہوگئی ہے ۔ وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہے ۔ تاہم وہ کارکنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس پر ہنسیں ‘ پرسکون رہیں اور چائے پئیں۔ یہ امید رکھیں کہ اب وہ سویرا آنے والا ہے جب کنول کھلے گا ۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر مرکزی اسکیمات میں رکاوٹ پیدا کرنے کا بھی الزام عائد کیا ۔