محکمہ اقلیتی بہبود حکومت کی نگرانی میں بدعنوانیوں کے مرکز میں تبدیل

   

محکمہ پنچایت راج سے آنے والے عہدیداروں کو ترقیاں، بھاری رشوت کے ذریعہ تبادلے

محمد مبشرالدین خرم
سحیدرآباد۔24۔ مئی ۔محکمہ اقلیتی بہبود
ریاستی نگرانی میں بدعنوانیوں کے مرکز میں تبدیل ہونے لگا ہے اور سرکاری ملازمین و عہدیدار وں کی ان بدعنوانیوں کے ذریعہ حاصل کی جانے والی ترقیات سے لاعلم اعلیٰ عہدیدار محکمہ کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں ۔ محکمہ پنچایت راج میں جن ملازمین کو 20 سال کے دوران کوئی ترقی نہیں دی گئی وہ اب محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دیتے ہوئے اندرون 5 برس سینیئر اسسٹنٹ سے محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بننے جا رہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار بھاری رشوت کی ادائیگی کے ذریعہ محکمہ پنچایت راج سے محکمہ اقلیتی بہبود میں اپنی خدمات منتقل کروانے والے ان ملازمین کو ترقی دلوانے میں جس دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اگر وہ محکمہ کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کرتے تو شائد گذشتہ 2برسوں میںمحکمہ اقلیتی بہبود کی شناخت غیر کارکرد محکمہ کی حیثیت سے نہ ہوتی ۔محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے محکمہ فینانس کو ڈائریکٹوریٹ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے ایسے ملازمین و عہدیداروں کی ترقی کے لئے سفارشات روانہ کی گئی ہیں جو کہ محکمہ پنچایت سے ڈائریکٹوریٹ میںچند برس خدمات کے لئے آئے تھے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے ۔محکمہ پنچایت راج ودیہی ترقیات سے تعلق رکھنے والے ملازمین جنہیں اپنے محکمہ میں ترقیات کے مواقع حاصل نہیں ہو رہے ہیںوہ بھاری رشوت ادا کرتے ہوئے اپنا تبادلہ محکمہ اقلیتی بہبود میں کرواتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے لگے ہیں۔محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت موجود ڈائریکٹوریٹ میں خدمات انجام دینے کے لئے جن کی خدمات محکمہ اقلیتی بہبود نے سال 2014 میں حاصل کی تھی وہ سال 2017 میں اپنی خدمات محکمہ اقلیتی بہبود میں ضم کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور 1996 میں سرکاری ملازمت بہ حیثیت سینیئر اسسٹنٹ حاصل کرنے والے 2014 تک بھی محکمہ پنچایت میں سینیئر اسسٹنٹ رہے اور 2017 میں جب ان کی خدمات محکمہ اقلیتی بہبود میں ضم کرلی گئی تو ان کی صلاحیتوں میں اس قدر اضافہ ہوگیا کہ 2018 میں انہیں سپرٹنڈنٹ کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی ‘ اس کے بعد 2020 میں انہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی فراہم کی گئی اور پھر 2024 میں ان پنچایت راج سے محکمہ اقلیتی بہبود میں بھاری رشوت دے کر جگہ حاصل کرنے والوں کو ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی دی گئی تھی اور اب سال 2026 میںمحکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے انہیں جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ پر ترقی دینے کے لئے سفارش روانہ کی گئی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنظیموں کے ذمہ داروں کا الزام ہے کہ محکمہ پنچایت راج و دیہی ترقیاتی میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی ترقی کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کو سیڑھی کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے ۔3